جعلی خبروں کا پتہ لگانے والا اے آئی ماڈل متعارف
اشاعت کی تاریخ: 9th, April 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سوشل میڈیا پر جعلی خبریں پھیلانا آسان اور پتہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن طاقتور اے آئی ٹیکنالوجی کی بدولت اب ہم فیک نیوز کا پتہ لگانے کے قابل ہو گئے ہیں۔
فیک نیوز خاص طور پر انتخابات کے دوران زیادہ تباہ کُن ہوتی ہیں جب مقامی اور بین الاقوامی مجرم غلط معلومات پھیلانے کے لیے تصاویر، متن، آڈیو اور ویڈیو مواد کا استعمال کرتے ہیں۔
تاہم جیسا کہ اے آئی اور الگورتھم جعلی خبروں کو پھیلا سکتے ہیں، وہ اس کا پتہ بھی لگا سکتے ہیں۔
کونکورڈیا کے جینا کوڈی اسکول آف انجینئرنگ اینڈ کمپیوٹر سائنس کے محققین نے جعلی خبروں کی شناخت کے لیے ایک اے آئی ماڈل تیار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے وہ مخفی ڈیٹا ملیں گے جن سے پتہ چل جائے گا کہ آیا کوئی خاص خبر جعلی ہے یا نہیں۔
SmoothDetector نامی اے آئی ماڈل ایک گہرے نیورل نیٹ ورک کے ساتھ ایک امکانی الگورتھم کو مربوط کرتا ہے۔
اسے مشترکہ خبروں کے متن اور تصاویر میں غیر یقینی مواد اور کلیدی نمونوں کو حاصل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ماڈل نے اس تکنیک کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایکس اور ویبو کے ٹیکسٹ اور امیج ڈیٹا سے سیکھا ہے۔
پی ایچ ڈی لولو اوجو نے کہا کہ اسموتھ ڈیٹیکٹر ممکنہ الگورتھم کے غیر یقینی مواد اور بالآخر خبروں کی صداقت کی شناخت کرنے کی صلاحیت کی طاقت کے ساتھ ڈیٹا سے پیچیدہ نمونوں کو بے نقاب کرنے کے قابل ہے۔
مزیدپڑھیں:لڑکی والوں سے بدتمیزی، کھانے کے بعددولہا خالی ہاتھ واپس، دلہن کی کزن سے شادی کردی گئی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: اے ا ئی
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک