امریکی ڈاکٹروں نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی، رانا ثناء اللّٰہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, April 2025 GMT
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ امریکی ڈاکٹروں نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی، امریکی ڈاکٹر شاید صرف حال چال پوچھنے ہی آئے تھے۔
جاتی امراء کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کو کل کے پروگرام میں اپنے صوبے کی نمائندگی کرنا چاہیے تھی، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اپنے صوبے کی نمائندگی نہیں کرتے تو وہ اپنے عہدے سے کوتاہی کر رہے ہیں۔
رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ غلط سیاسی کیسز بنانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے، سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر گفت و شنید سے معاملات حل کرنا چاہیے۔
رانا ثناء نے یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا پر ہر کسی کو اپنی بات کہنے کا حق ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی منظم اور مستحکم کرنے کیلئے عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وہ مہم کی قیادت کریں گے اور صورتحال نواز شریف اور مریم نواز کے سامنے رکھیں گے۔
رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ ابھی صرف پنجاب کی حد تک عوامی رابطہ مہم شروع کر رہے ہیں، نواز شریف دوسرے صوبوں کا دورہ کریں گے تو ان صوبوں میں بھی جلسے کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: رانا ثناء الل نے کہا کہ
پڑھیں:
یورپی یونین نے ایران کے 5 ججوں اور سائبر گروپ کے بانی پر پابندیاں عائد کردیں
یورپی یونین نے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے الزام میں ایران کے 5 ججوں اور ایک سائبر گروپ کے بانی پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی یونین کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں نیما صالحی بھی شامل ہیں جو ایرانی سائبر گروپ آشیانے کے بانی ہیں۔
یورپی یونین کا الزام ہے کہ یہ گروپ ایران کی سائبر پولیس فاٹا اور پاسداران انقلاب کے ساتھ قریبی تعاون کرتے ہوئے حکومتی سطح پر معلومات کے بہاؤ کو محدود کرنے اور آن لائن نگرانی میں مدد فراہم کرتا رہا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر پانچ ایرانی ججوں کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے تاہم ان ججوں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کایا کالاس نے کہا کہ جیسے جیسے ایران اندرونِ ملک کریک ڈاؤن میں شدت لا رہا ہے۔ یورپی یونین ذمہ دار افراد کا احتساب جاری رکھے گی۔
یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ نے مزید کہا کہ اب تک ایران سے متعلق پابندیوں کی فہرست میں 269 افراد اور 53 ادارے یا تنظیمیں شامل کیے جا چکے ہیں۔