چین کا امریکا کو سخت پیغام: ٹیرف پر دباؤ قبول نہیں، آخری حد تک لڑیں گے
اشاعت کی تاریخ: 10th, April 2025 GMT
بیجنگ: چین نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے اپنی روش نہ بدلی تو چین تجارتی جنگ میں آخری حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔ چینی وزارت تجارت نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ بلیک میلنگ، دباؤ اور دھمکیوں سے چین کو جھکایا نہیں جا سکتا۔
ترجمان کے مطابق چین کو درپیش چیلنجز میں اضافہ ضرور ہوا ہے، مگر غیر ملکی تجارت کی صلاحیت میں کوئی کمی نہیں آئی، ہم مؤثر اقدامات کے ذریعے غیر یقینی حالات کا مقابلہ کریں گے۔
چین نے امریکا پر زور دیا کہ بات چیت کے دروازے کھلے ہیں مگر وہ باہمی احترام اور مساوی بنیادوں پر ہونی چاہیے۔ تحفظ پسندی اور یکطرفہ فیصلے دنیا کے مفاد میں نہیں۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر ٹیرف بڑھا کر 125 فیصد کر دیا ہے۔ اس سے قبل امریکا نے چین پر 104 فیصد ٹیرف لگایا تھا، جس کے جواب میں چین نے بھی امریکی مصنوعات پر 84 فیصد ٹیرف عائد کر دیا تھا۔
تجارتی جنگ کا آغاز "لبریشن ڈے ٹیرف" سے ہوا تھا جس کے بعد دونوں ملکوں نے جوابی اقدامات اور پابندیاں لگانے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ چین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے مزید اقدامات کیے تو وہ بھی سخت جوابی کارروائیاں کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔