لاہورچیمبر کی جانب سے پاکستان کے لیے امریکی ٹیرف پابندیاں معطل کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم
اشاعت کی تاریخ: 10th, April 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 10 اپریل2025ء)لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میاں ابوذر شاد، سینئر نائب صدر انجینئر خالد عثمان اور نائب صدر شاہد نذیر چودھری نے امریکہ کی جانب سے پاکستان پر عائد ٹیرف پابندیاں 90 دن کے لیے معطل کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے اس قدم کو بروقت اور دو طرفہ تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کی سمت ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔
لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے کہا کہ ٹیرف ریلیف پاکستانی برآمدکنندگان، خصوصاً ٹیکسٹائل اور لیدر سیکٹر کو فوری ریلیف فراہم کرے گی اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی اور منصفانہ تجارتی مذاکرات کی راہ ہموار کرے گی۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر امریکہ کے ساتھ اعلیٰ سطحی سفارتی اور تجارتی مذاکرات کا آغاز کرے تاکہ اس عارضی ریلیف کو مستقل بنایا جاسکے۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل، گارمنٹس، کھیلوں کے سامان اور سرجیکل آلات جیسے شعبہ جات کو سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ اس عرصے میں ٹیرف میں نرمی سے مکمل فائدہ اٹھا سکیں۔لاہور چیمبر کے عہدیداران نے کہا کہ پاکستان کے امریکہ میں کمرشل اتاشیوں کو واضح اہداف دیے جائیں تاکہ وہ نئے کاروباری روابط قائم کریں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ برآمدکنندگان کو جلد از جلد ریفنڈز دے، کم شرح سود پر ایکسپورٹ فنانسنگ فراہم کرے اور کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرے تاکہ برآمدی شعبہ پیداوار بڑھا سکے اور امریکی مارکیٹ کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کر سکے۔لاہور چیمبر کے عہدیداران نے مزید کہا کہ پاکستان کو امریکہ کے ساتھ ترجیحی تجارتی معاہدہ کے لیے اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت اور کاروباری قیادت کو مل کر امریکہ میں پاکستان کے اقتصادی، صنعتی اور تجارتی ماحول کا مثبت تاثر اجاگر کرنا چاہیے تاکہ ملک کو ایک پٴْرکشش تجارتی شراکت دار کے طور پر پیش کیا جا سکے۔لاہور چیمبر کے عہدیداران نے امید کا اظہار کیا کہ یہ امریکی اقدام دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کا نقطہ آغاز ثابت ہوگا اور پاکستان کی برآمدات میں واضح اضافہ ممکن ہو سکے گا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے لاہور چیمبر کے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔