عمران خان اب اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کر رہے ہیں، سینیٹر ناصر بٹ کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 10th, April 2025 GMT
پشاور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ناصر بٹ نے کہا کہ نواز شریف ہی وہ واحد شخصیت ہیں جن کے پاس ملک کے بحرانوں کا حل ہے، نواز شریف بیرون ملک سے واپسی پر چاروں صوبوں کا دورہ کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے قریبی ساتھی سینٹر ناصر بٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان اب اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کررہے ہیں۔ پشاور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ناصر بٹ نے کہا کہ نواز شریف ہی وہ واحد شخصیت ہیں جن کے پاس ملک کے بحرانوں کا حل ہے، نواز شریف بیرون ملک سے واپسی پر چاروں صوبوں کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جو دہشت گردی ہے اور ملک میں جو سیاسی صورتحال ہے، اس کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ ناصر بٹ کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان اب اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کررہے ہیں، ان کے اردگرد جو افراد ہیں، ان پر بانی چیئرمین کو اعتبار نہیں ہے، اسی لیے اعظم سواتی نے ذمہ داری اٹھائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف والے خود بتائیں ڈیل اور مفاہمت میں کیا فرق ہے۔
بعد ازاں سینیٹر ناصر محمود بٹ کی قیادت میں سینیٹرز کے وفد نے آج گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ وفد میں سینیٹر اسلم ابڑو ، سینیٹر حسنہ بانو ، سینیٹر خالدہ عتیب شامل تھے، ملاقات کے دوران ہاؤسنگ سے متعلقہ امور، جاری ترقیاتی منصوبوں اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے صوبے میں ہاؤسنگ کے شعبے کو درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالی اور کہا کہ عوام کو سستی اور معیاری رہائش کی فراہمی میری اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے اس موقع پر وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پشاور میں وفاقی محکمہ جات سے متعلق پردیسی ملازمین کو شدید مشکلات درپیش ہیں، ان کے لیے سہولیات میں اضافہ کیا جائے اور ہاؤسنگ سبسڈی دی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پشاور میں نواز شریف کہا کہ
پڑھیں:
ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔