سوموار تک گندم کا نرخ طے نہ ہوئے تو خواتین اور بچوں سمیت احتجاج کیا جائیگا،کسان اتحاد کی حکومت کو وارننگ
اشاعت کی تاریخ: 11th, April 2025 GMT
سوموار تک گندم کا نرخ طے نہ ہوئے تو خواتین اور بچوں سمیت احتجاج کیا جائیگا،کسان اتحاد کی حکومت کو وارننگ WhatsAppFacebookTwitter 0 11 April, 2025 سب نیوز
ملتان(سب نیوز)کسان اتحاد نے حکومت کو خبردار کیا گیا ہے کہ 14اپریل تک اگر گندم کا نرخ طے نہ کئے گئے تو خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں کی تعداد میں احتجاج کیا جائیگا۔ اس بات کا اعلان چیئرمین کسان اتحاد خالد کھوکھر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
انہوں نے کہا کہ ڈھائی کروڑ ایکڑ پر گندم کاشت ہے لیکن آج گندم کا کاشتکار شدید پریشان ہے اور اس کو لگ رہا ہے کہ بچوں کو علاج اور اسکول کی سہولتیں نہیں ملیں گی۔خالد کھوکھر نے کہا کہ جو مراعات ایم این اے کی ہیں وہ کسان کو ملنی چاہئیں لیکن کاشتکار کی پیداواری لاگت نہیں مل رہی، ہماری بجلی اور کھادوں کا نرخ قوت خرید سے باہر ہوگیا ہے، کاشتکار اپنے زیور فروخت کر کے زرعی دوائیں خریدتا ہے، آج اخراجات 3400 روپے اور گندم کا ریٹ 2200 مل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب کسان کو گندم کا ریٹ صحیح ملا تو 6 اعشاریہ5 گروتھ دی، آج مکئی چاول اور دیگر اجناس کی امپورٹ بڑھ گئی ہے، زرعی ملک ہونے کے باوجود ہمیں امپورٹ کرنا پڑتی ہیں، آج ہم سارے بیج باہر سے منگواتے ہیں، گندم ہاوریسٹنگ کیلیے تیار ہیں لیکن نرخ کا پتا نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے فیصلہ کیا اور صوبہ بندی اور ضلع بندی ختم کر دی، حکومت فیصلہ کرے کے ایک سال روٹی اور آٹے کا ریٹ طے نہیں کریں گے۔چیئرمین کسان اتحاد نے مزید کہا کہ 30 ملین ڈالر کی ایکسپورٹ ہیں جس میں زراعت کا بڑا حصہ ہے، آٹے کا ریٹ طے ہے لیکن چینی کا ریٹ طے نہیں ہے، چینی کا ریٹ 60 روپے تک بڑھا دیا گیا آٹا کے ریٹ کیوں نہیں بڑھا رہے؟خالد کھوکھر کا کہنا تھا کہ 14 اپریل 2025 تک حکومت نے گندم کا نرخ نہ دیا تو احتجاج کریں گے، ملتان پریس کلب کے باہر خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں کسان احتجاج کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: خواتین اور بچوں سمیت گندم کا نرخ کسان اتحاد
پڑھیں:
سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
(سٹی42)سندھ حکومت نے مہنگے داموں پاسکو سے گندم خرید کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
2024 کی پرانی گندم پاسکو سے خرید ی جائے گی،پاسکو نے فی 40 کلو گرام کا 4150 روپے نرخ مقرر کیا ہے۔
پاسکو نے 2 لاکھ 20 ہزار 665 میٹرک ٹن گندم سندھ کو دینے کی پیشکش کی ہے،سندھ نے کاشت کاروں کیلئے 3500 روپے گندم خریداری کا نرخ مقرر کیا تھا لیکن کاشت کاروں نے کم نرخ کی وجہ سے گندم حکومت کو نہیں دی اورسندھ حکومت ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم نہیں خرید سکی۔
سندھ حکومت نےرواں سال 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم خرید کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا،اب سندھ حکومت 650 روپے فی 40 کلو گرام 650 روپے مہنگی گندم خرید رہی ہے،سندھ حکومت نے بیرون ممالک سے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
محکمہ خوراک سندھ کے مطابق صوبے کو 16 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم کی قلت کا سامنا ہے، سندھ میں گندم کی ضرورت 65 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن ہے،سندھ میں گندم کی پیداوار 47 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ہوئی ، جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن پرانی گندم کے ذخائر موجود ہیں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
محکمہ خوراک کے مطابق اوپن مارکیٹ میں زیادہ نرخ کی وجہ کاشت کاروں سے گندم خرید نہیںسکے،گندم کی قلت کا سامنا کرنے کی وجہ سے گندم درآمد کرنی پڑے گی،سندھ کابینہ نے گزشتہ روز گندم در آمد کرنے کی منظوری دیدی ہے۔