کینیڈا نے 13 نئے ممالک کے شہریوں کے لیے ویزے کے بغیر داخلے کی اجازت دے دی ہے۔

ان مسافروں کو اب صرف ایک الیکٹرانک ٹریول آتھورائزیشن (eTA) کی ضرورت ہوگی، جو آسان اور تیز آن لائن عمل کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے،یہ اعلان کینیڈین وزیر برائے امیگریشن، مہاجرین و شہریت، شان فریزر نے کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کا مقصد کینیڈا کے بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط بنانا اور مسافروں کے لیے سفری عمل کو آسان بنانا ہے۔نئے شامل کیے گئے 13 ممالک یہ ہیں: انٹیگوا اور باربوڈا، ارجنٹینا، کوسٹا ریکا، مراکش، پاناما، فلپائن، سینٹ کٹس اینڈ نیوس، سینٹ لوشیا، سینٹ ونسنٹ اینڈ دی گرینیڈائنز، سیشلز، تھائی لینڈ، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو، اور یوراگوئے۔

ان ممالک کے شہری اگر پچھلے 10 سالوں میں کینیڈین ویزا حاصل کر چکے ہوں یا امریکا کا فعال نان امیگرنٹ ویزا رکھتے ہوں تو وہ eTA کے اہل ہوں گے۔یہ سہولت صرف فضائی سفر کے لیے ہے اور سیاحت یا کاروباری مقاصد کے تحت زیادہ سے زیادہ چھ ماہ تک قیام کی اجازت دیتی ہے۔

درخواست دینے کے لیے صرف پاسپورٹ، ای میل ایڈریس، انٹرنیٹ رسائی اور کریڈٹ کارڈ درکار ہوگا۔ فیس صرف 7 کینیڈین ڈالر (تقریباً 5 امریکی ڈالر) ہے اور زیادہ تر منظوری چند منٹوں میں دی جاتی ہے۔جن مسافروں کا تعلق ان ممالک سے نہیں یا جو زمینی یا سمندری راستے سے کینیڈا آنا چاہتے ہیں، انہیں اب بھی باقاعدہ وزیٹر ویزا کی ضرورت ہوگی۔

حکومت کے مطابق یہ اقدام نہ صرف سیاحت و تجارت کو فروغ دے گا بلکہ امیگریشن سروسز پر بوجھ کم کرے گا اور درخواستوں کے پراسیسنگ وقت میں بھی بہتری لائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس

دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔

دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر

نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔

ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟

ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔

کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟

حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔

دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری