ایم ایم یو نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (AIMPLB) سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے وقف اداروں کے تحفظ کے لیے تمام پرامن اور قانونی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) نے سینئر حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق کی رہائشگاہ کو سیل کرنے اور وقف (ترمیمی) ایکٹ کے مضر اثرات پر بات کرنے کیلئے ایک اہم مذہبی اجلاس کو روکنے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق میر واعظ عمر فاروق کی سربراہی میں ایم ایم یو کے ایک وفد نے 24 جنوری 2025ء کو مجوزہ وقف ترمیمی بل پر پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین جگدمبیکا پال سے ملاقات کی تھی۔ متحدہ مجلس علماء کا اجلاس جمعرات کو ہونا تھا تاکہ نئی قانون سازی کے وقف اداروں پر ممکنہ اثرات پر غور کیا جا سکے، لیکن بھارتی حکام کی جانب سے میر واعظ کی رہائشگاہ راجوری کدل کو سیل کر دیا گیا اور شرکاء کو داخلے سے روک دیا گیا۔ جموں، کشمیر، لیہہ اور کرگل سے آئے علمائے کرام اور مذہبی اسکالرز کو اجلاس میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔ ایم ایم یو نے وقف ایکٹ کے خلاف قرارداد کو جمعہ کے خطبات کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر کی تمام مساجد، خانقاہوں اور امام بارگاہوں میں پڑھ کر سنایا ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ نیا قانون وقف اداروں کے مذہبی اور روایتی ڈھانچے کو کمزور کرتا ہے۔ ادارے نے وقف بورڈز سے مسلم قیادت کے اختیارات میں کمی، غیر مسلم افسران کی شمولیت اور اہم فیصلوں کے اختیارات ڈپٹی کمشنرز کو منتقل کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ایم ایم یو نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (AIMPLB) سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے وقف اداروں کے تحفظ کے لیے تمام پرامن اور قانونی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

ادھر انجمن اوقاف جامع مسجد نے بھی میر واعظ عمر فاروق کو مسلسل دوسرے جمعہ گھر میں نظربند رکھنے پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔ ایک بیان میں کہا گیا کہ میر واعظ کے ساتھ حکام کا غیر جمہوری اور معاندانہ رویہ کشمیری مسلمانوں کے لیے باعث اذیت ہے اور ان کے مذہبی و سماجی فرائض کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ دریں اثناء میر واعظ عمر فاروق نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک اور جمعہ، ایک اور نظربندی اور حکام کی طرف سے جامع مسجد فوبیا جاری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: میر واعظ عمر فاروق ایم ایم یو کا اظہار

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • وادی کشمیر میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور مکانات کی مسماری پر میرواعظ عمر فاروق کا شدید رنج
  • کوہاٹ دہشتگرد حملہ، وزیراعظم اور صدر مملکت کی شدید مذمت
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی