پی ایس ایل 10: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پشاور زلمی کو شکست دیدی
اشاعت کی تاریخ: 12th, April 2025 GMT
راولپنڈی(نیوز ڈیسک)پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے دسویں ایڈیشن کے دوسرے میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پشاور زلمی کو شکست دے دی۔
راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں ہونے والے پی ایس ایل 10 کے دوسرے میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے کپتان سعود شکیل اور فن ایلن کی نصف سنچریوں کی بدولت مقررہ 20 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 216 رنز بنائے۔
تاہم 217 رنز کےبڑے ہدف کے تعاقب میں صائم ایوب کے علاوہ کوئی بھی بلے باز زیادہ دیر وکٹ پر نہ رک سکا اور پوری ٹیم 20 اوورز بھی نہ کھیل سکی، 13.
پشاور زلمی بیٹنگ
ہدف کے تعاقب میں پشاور زلمی کو پہلے ہی اوور میں کپتان بابراعظم کی وکٹ کی صورت میں دھچکا لگا جو کھاتہ کھولے بغیر ہی محمد عامر کا شکار بن گئے۔
تیسرے نمبر پر بیٹنگ کے لیے آنے والے محمد حارث بھی 13 رنز کے مہمان ثابت ہوئے، ٹام کولر کیڈ مور بھی کھاتہ کھولے بغیر پویلین لوٹ گئے۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بیٹنگ
اس سے قبل، پشاور زلمی کے کپتان بابراعظم نے کویٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو فن ایلن اور سعود شکیل نے جارحانہ آغاز فراہم کیا، فن ایلن 4 چھکوں اور 5 چوکوں کی مدد سے 25 گیندوں پر 53 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔
تیسرے نمبر پر بیٹنگ کے لیے آنے والے حسن نواز 41 رنز بناکر آؤٹ ہوئے جب کہ کپتان سعود شکیل نے 42 گیندوں پر 59 رنز کی اننگز کھیلی جس میں 2 چھکے اور 6 چوکے شامل تھے۔
ریلی روسو نے 10 گیندوں پر 21 اور کشال مینڈس نے 14 گیندوں پر 35 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی اور دونوں ناٹ آؤٹ رہے۔
پشاور زلمی کی جانب سے محمد علی سب سے مہنگے باؤلر ثابت ہوئے جنہوں نے 4 اوورز میں 57 رنز دیے۔ علی رضا، صفیان مقیم اور الزاری جوزف نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ 10 کے افتتاحی میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے کولن منرو کی ناقابل شکست نصف سنیچری کی بدولت لاہور قلندرز کو 8 وکٹوں سے شکست دی تھی۔
مزیدپڑھیں:اگلے بجٹ میں تنخواہ دار طبقہ کوریلیف کی خوشخبری سنادی گئی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز پشاور زلمی گیندوں پر
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں