پشاور میں ایکسائز پیٹرولنگ کی گاڑی پر فائرنگ، تین اہلکار شہید
اشاعت کی تاریخ: 13th, April 2025 GMT
ایکسائز حکام کے مطابق ایکسائز اہلکاروں کو نامعلوم ملزمان نے نوشہرہ کی حدود میں فائرنگ کرکے نشانا بنایا، شہید ہونے والوں میں ایکسائز کانسٹیبل مجاہد خان، ایکسائز کانسٹیبل افتخار اور ڈرائیور شبیر شامل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور میں جی ٹی روڈ تاروجبہ کے قریب گاڑی روکنے پر ایکسائز پیٹرولنگ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے دو اہلکار جاں بحق ہوگئے۔ فائرنگ سے افتخار کانسٹیبل اور مجاہد کانسٹیبل موقع پر شہید ہوگئے جبکہ ڈرائیور انسپکٹر شبیر کو شدید زخمی حالت میں استپال منتقل کیا گیا جو جانبر نہ ہو سکا۔ محکمہ ایکسائز اینٹیلی جنس ٹیم کے شہید دو اہلکاروں سمیت ڈرائیور کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔ نماز جنازہ میں آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید، سی سی پی او قاسم خان اور ایس ایس پی آپریشنز سمیت ایکسائز حکام نے شرکت کی۔ ایکسائز حکام کے مطابق ایکسائز اہلکاروں کو نامعلوم ملزمان نے نوشہرہ کی حدود میں فائرنگ کرکے نشانا بنایا، شہید ہونے والوں میں ایکسائز کانسٹیبل مجاہد خان، ایکسائز کانسٹیبل افتخار اور ڈرائیور شبیر شامل ہے۔
ایکسائز اہلکاروں پر فائرنگ چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کرلی، چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ کا کہنا تھا کہ ایکسائز اہلکار صوبے میں منشیات و اسمگلنگ کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، ایکسائز اہلکاروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ نے شہید ایکسائز اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسمگلنگ کے خلاف مہم جاری رہے گی، منشیات فروشوں اور اسمگلروں کے خلاف کارروائی کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایکسائز اہلکاروں ایکسائز کانسٹیبل
پڑھیں:
پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
پشاور:حیات میڈیکل کمپلیکس پشاور میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری ہے جس کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے او پی ڈیز اور آپریشنز کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا جبکہ احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں نے او پی ڈی کمروں کو تالے بھی لگا دیے۔ ہڑتال کے باعث اسپتال میں مختلف طبی سروسز کی فراہمی معطل ہو کر رہ گئی۔
اس صورتحال کے نتیجے میں علاج کی غرض سے آنے والے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر اسفندیار نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اپنے وعدے کے مطابق کرپشن کی شفاف تحقیقات کروائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اس حوالے سے فوری اقدامات نہ کیے تو صوبے بھر کے تمام اسپتال بند کر دیے جائیں گے۔