پاکستان نے 8شہریوں کے قتل پر ایران سے قونصلر رسائی مانگ لی
اشاعت کی تاریخ: 13th, April 2025 GMT
پاکستان نے 8شہریوں کے قتل پر ایران سے قونصلر رسائی مانگ لی WhatsAppFacebookTwitter 0 13 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان نے ایرانی صوبے سیستان میں قتل ہونے والے 8 پاکستانیوں کی شناخت کے لیے قونصلر رسائی مانگ لی۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ایران میں 8 پاکستانیوں کے قتل کی شناخت کیلئے قونصلر رسائی طلب کی ہے پاکستان کی قیادت اور عوام واقعے پر دکھ اورغم میں مبتلا ہیں اور وزیراعظم نے سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ترجمان نے کہا کہ نائب وزیراعظم کی ہدایت پر تہران میں سفارتخانہ ایرانی حکام سے رابطے میں ہے اور زاہدان میں قونصل خانہ بھی تحقیقات کیلئے ایرانی حکام سے رابطے میں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران میں شہریوں کے بزدلانہ قتل کی مذمت کرتا ہے تحقیقات اور لاشوں کی واپسی میں ایران کے مکمل تعاون کی امید کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔