سندھ حکومت اور اپوزیشن اپنے منشور کے مطابق مسائل حل کرنے میں ناکام، رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 14th, April 2025 GMT
کراچی:
ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کو ایک برس دو ماہ سے زائد ہو چکے ہیں، سندھ میں پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان ، جماعت اسلامی ، پاکستان تحریک انصاف نے عام انتخابات کے موقع پر اپنے اپنے منشور پیش کیے ، جس میں عوام سے ان کے بنیادی مسائل کے حل سمیت دیگر وعدے کیے گئے۔ انتخابات کے بعد سندھ میں پیپلز پارٹی برسر اقتدار آئی۔
پارلیمانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن صوبے میں اپنے منشور کے مطابق عوامی مسائل حل کرنے میں فی الحال ناکام نظر آتی ہے۔
ایکسپریس نے سیاسی جماعتوں کے منشور اور ارکان سندھ اسمبلی کی کارکردگی کے حوالے سے رپورٹ مرتب کی۔ جامعہ کراچی کے شعبہ سوشل ورک کی سابق پروفیسر ڈاکٹر نسرین اسلم شاہ نے بتایا کہ اگر مجمورعی طور پر سندھ اسمبلی کے ارکان اور پارلیمانی جماعتوں کے منشور کا جائزہ لیا جائے تو بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں کی نظر میں ان کی کارکردگی سے عوام مطمئن نظر نہیں آئے گی۔
سینئر پارلیمانی تجزیہ کار منیر الدین کا کہنا ہے کہ مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کے بعد پارلیمانی جماعتوں کی نشستوں میں تبدیلی آجائے گی اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ارکان کی تعداد بڑھ جائے گی۔
سینئر پارلیمانی تجزیہ کار عبدالجبار ناصر نے بتایا کہ بلوچستان اورگلگت بلتستان اسمبلی کے مقابلے میں سندھ کے ارکان اسمبلی کی تنخواہیں کم ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی کا کام قانون سازی کرنا ہے ، سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کو اپنے منشور کے مطابق عوامی وعدوں کو پورا کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے جبکہ اپوزیشن کی کارکردگی اسمبلی میں تو بہتر ہے لیکن اپوزیشن جماعتوں کو عوامی مسائل کے حل کے لیے سیاسی طور پر مزید متحرک ہونا ہو گا۔
سینئر صحافی اور پارلیمانی تجزیہ کار منیر الدین نے کہا کہ ماضی کے انتخابات میں پارلیمانی جماعتوں کا منشور انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا تھا۔ صدر میں الیکٹرونکس کی دکان پر سیلز مین کا کام کرنے والے نوجوان احمر قریشی نے بتایا کہ عوام کو سیاسی جماعتوں کے منشور اور ارکان اسمبلی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
مجاہد کالونی کی رہائشی عائشہ علی نے بتایا کہ مہنگائی نے متوسط اور غریب طبقے کا ماہانہ بجٹ شدید متاثر کیا ہے۔ وزیر اعلی سندھ کے معاون خصوصی پیپلز پارٹی سندھ کے سیکرٹری جنرل وقار مہدی نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کا منشور معاشی اصلاحات اور دیگر عوامی مسائل کے حل پر مبنی ہے۔
سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کے ارکان سندھ اسمبلی عوام کے مسائل کے حل کے لیے پارٹی منشور کے مطابق کام کر رہے ہیں، سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما علی خورشیدی نے کہا کہ ایم کیو ایم کا منشور ضلعی خودمختاری ، انکم جنریشن پروگرام اور دیگر نکات پر مبنی ہے، ہم سندھ میں اپوزیشن میں ہیں۔
پارلیمانی اور سیاسی سطح پر ایم کیو ایم عوام کے مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہے۔
جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق نے بتایا کہ جماعت اسلامی کراچی کے مسائل کے حل کے لیے متحرک ہے۔ پی ٹی آئی کراچی کے صدر راجہ اظہر نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے ارکان سندھ اسمبلی عوامی مسائل کے حل کے لیے پارٹی منشور کے مطابق اسمبلی سمیت ہر فورم پر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مسائل کے حل کے لیے پارلیمانی تجزیہ منشور کے مطابق پیپلز پارٹی عوامی مسائل سندھ اسمبلی نے بتایا کہ اپنے منشور کے ارکان تجزیہ کا
پڑھیں:
بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔24 جولائی ۔2026 ) پاکستان میں بجلی تقسیم کار کمپنیوںکی جانب سے صرف ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف سامنے آیا ہے قومی اسمبلی کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈیٹرجنرل آف پاکستان کی رپورٹ گیا ہے ‘اجلاس یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی میں130گھوسٹ ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات کی مد میں ایک ارب6کروڑ روپے کا فراڈ کیا گیا جس میں سے صرف13کروڑ روپے کی ریکوری ہوسکی ہے. اجلاس کو بتایا گیاکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے (ڈسکوز)کی جانب سے جان بوجھ کر اوورریڈنگ کی اور غیرقانونی طورپر سب سے اضافی بلنگ لاہور الیکٹرک کمپنی لیسکو نے کی جو45ارب روپے ہے.(جاری ہے)
آڈیٹرجنرل آفس کے حکام نے سیکرٹری پاورڈویژن کی جانب سے صارفین سے اووربلنگ کی مد میں حاصل کی جانے والی47ارب81کروڑ روپے کی واپسی کے دعوے کو رد کرتے ہوئے کہاکہ ”ڈسکوز“کی جانب سے صرف انہی صارفین کو اووربلنگ کی رقم واپس کی جاتی ہے جو اس کے لیے درخواست دیتے ہیں اور کمپنیوں کی جانب سے اووربلنگ کی واپسی کا عمل پچیدہ‘طویل اور جانبدار ہونے کی وجہ سے صارفین کی بہت کم تعداد اضافی رقم کی واپسی کے لیے ”ڈسکوز“سے رجوع کرتی ہے‘رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا ہے بطور ریگولیٹری اتھارٹی ”نیپرا“اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے اور اتھارٹی نے صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنے کی بجائے تقسیم کار کمپنیوں کے مفادات کا تحفظ کیا‘رپورٹ میں ”نیپرا“اور پاورڈویژن کے کردار پر بہت سارے سوالات اٹھائے گئے ہیں.
رپورٹ میں بتایا گیا ہے مجموعی طور پر ”ڈسکوز“نے90کروڑ40لاکھ یونٹ کی اووربلنگ کی گئی‘ اجلاس میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی میں130 گھوسٹ ملازمین کے ناموں پرایک ارب چھ کروڑ نکلوایا گیا کمپنی نے جواب میں بتایا کہ گھوسٹ ملازمین کے معاملے میںملوث تین اکاﺅنٹس افسر اورایک فناس ڈیپارٹمنٹ کے افسر کو برطرف کردیاگیا ہے ‘ان ملازمین کے خلاف مقدمات بھی درج کروائے گئے ہیں کمپنی نے بتایا کہ اب تک 13کروڑ کی جاچکی ہے. پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے تمام ڈسکوزکے ملازین کی تنخواہیں ڈیجٹل طریقے سے ادا کرنے سے ہدایت سیکرٹری پاور ڈویژن نے بتایا کہ پاورڈویژن دو تقسیم کارکمپنیوں کوئٹہ الیکٹرک کمپنی اور ٹرائبل ایریا الیکٹرک کمپنی کے علاوہ باقی تمام ”ڈسکوز“کی مرحلہ وار نجکاری کرنے جارہی ہے . آڈٹ حکام کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے اپنی نااہلی، لائن لاسز اور بجلی چوری کو چھپانے کے لیے عوام کی جیبوں پر 47 ارب 81 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ ڈالا‘ بجلی کمپنیوں نے میٹر ریڈنگ میں ہیرا پھیری اور اوور بلنگ کے ذریعے صرف ایک ماہ کے اندر 2 لاکھ 78 ہزار 649 صارفین سے یہ خطیر رقم چھینی آڈٹ رپورٹ کے مطابق ڈسکوز نے دانستہ طور پر غلط اور زائد میٹر ریڈنگ کر کے صارفین کو کروڑوں اضافی یونٹس کے بل بھیجے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمپنیوں نے اپنے ٹیکنیکل نقصانات (لائن لاسز) اور بجلی چوری کا خسارہ پورا کرنے کے لیے عام شہریوں پر اضافی لوڈ ڈال دیا ‘آڈٹ حکام کا کہنا ہے لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے 45 ارب روپے کی اوور بلنگ کا اعتراف کیاہے اسی طرح پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی نے بھی میٹرریڈنگ میں ہیراپھیری کا اعتراف کیا ہے . حکام نے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کو بتایا کہ ایک سال کے دوران بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی اور بجلی چوری کی وجہ سے مجموعی طور پر 472 ارب روپے کا نقصان ہوا جس میں 265 ارب روپے ترسیل و تقسیم اور 207 ارب روپے بلوں کی کم وصولی کی وجہ سے ڈوب گئے. رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ”ڈسکوز“میں اربوں روپے ماہانہ کی ہیراپھیریوں میں ان کمپنیوں کے سربراہان اور اعلی افسران سے لے کر نچلے درجے کے ملازمین شامل ہوتے ہیں‘لیسکو کی جانب سے رواں سال جون اور جولائی کے مہنیوں میں اربوں روپے کی اووربلنگ کی ہے تاہم اس کی آڈٹ رپورٹ 2027میں سامنے آئے گی. لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے بلنگ امورسے متعلق شعبے کے ایک سابق اعلی افسرنے نام ظاہر نہ کرنے شرط پر بتایا کہ ”ڈسکوز“سب سے زیادہ اووربلنگ گرمیوں کے تین مہینوں جون‘جولائی اور اگست میں کرتی ان مہینوں میں صارفین بجلی کا زیادہ استعمال کررہے ہوتے ہیں اس لیے اکثریت اس ڈاکے پر دھیان نہیں دیتی‘ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ گرمیوں کے ان تین مہینوں کے دوران ڈویژن کی سطح پر ”ٹارگٹ“مقرر کیئے جاتے ہیں جہاں سے سب ڈویژن کے ذریعے میٹرریڈرزکو بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے کتنے اضافی یونٹس صارفین کے کھاتے میں ڈالنا ہیں‘انہوں نے کہاکہ یہ سلسلہ نیا نہیں ہے اب یہ اس لیے نوٹس کیا جارہا ہے کہ بجلی قیمتیں اور ٹیکس غیرمعمولی حد تک بڑھ چکے ہیں اس لیے چند اضافی یونٹس بھی ریکارڈ پر آجاتے ہیں.