4 سال بعد بنگلہ دیشی پاسپورٹس پر ’سوائے اسرائیل کے ‘ کی عبارت دوبارہ شامل
اشاعت کی تاریخ: 14th, April 2025 GMT
بنگلہ دیش کے حکام نے اپنے شہریوں کے اسرائیل جانے پر پابندی عائد کرتے ہوئے پاسپورٹس پر ’سوائے اسرائیل کے‘ کی عبارت دوبارہ درج کردی ہے۔
یہ عبارت پہلے بھی بنگلہ دیشی پاسپورٹ کا حصہ تھی تاہم معزول وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے دور میں اسے پاسپورٹس سے ہٹادیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی، بنگلہ دیش کے متعدد تعلیمی اداروں میں سرگرمیاں معطل
تاہم اب دوبارہ سے 4 سال بعد وزارت داخلہ کے احکامات پر پاسپورٹ اینڈ ایمیگریشن اتھارٹی نے اس عبارت کو بنگلہ دیشی پاسپورٹ پر بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسرے مسلم اکثریتی ممالک کی طرح بنگلہ دیشی میں بھی حالیہ دنوں اسرائیلی جارحیت کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل بنگلہ دیش ڈھاکا فلسطین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل بنگلہ دیش ڈھاکا فلسطین بنگلہ دیشی
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔