پرائیویٹ کمپنیوں کو بھی اپنے ملازمین کی تنخواہ سے ٹیکس کاٹنے کا اختیار مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, April 2025 GMT
اسلام آباد(اوصاف نیوز) وفاقی حکومت نے ایک اور بڑا قدم اٹھا لیا ، پرائیویٹ کمپنیوں کے اکاؤنٹس افسران کو ملازمین کی تنخواہ سے ٹیکس کاٹنے کا اختیار دینے کا بل اسٹیڈنگ کمیٹی سے منظور ہوگیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق نجی کمپنیوں کے اکاؤنٹس افسران کو ملازمین کی تنخواہ سے ٹیکس کاٹنے کا اختیار دینے سے متعلق پنجاب اسمبلی کی بل قائمہ کمیٹی سے منظور کرلیا گیا جس کے بعد پرائیویٹ کمپنیوں کے ملازمین اب ٹیکس میں ہیر پھیر نہیں کرسکیں گے۔
پنجاب اسمبلی کی اسٹیڈنگ کمیٹی نے دی پنجاب فنانس ترمیمی بل2025کی منظوری دے دی۔ پنجاب اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی ایکسائز کے اجلاس کی صدارت چیئر مین آغا علی حیدر نے کی، اجلاس میں محکمہ ایکسائز کے افسران کے علاوہ محکمہ قانون اور خزانہ کے افسران نے بھی شرکت کی۔
کمیٹی کے اجلاس میں دی پنجاب فنانس ترمیمی بل2025 خوب غور و خوض کے بعد منظور کیا گیا،اب یہ بل پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں باقاعدہ طورپر منظور کیا جائے گا۔
بل کے مطابق اس بل کا مقصد پرائیو یٹ کمپنیوں کے پیشہ ور ملازمین سے ٹیکس کا حصول یقینی بنانا ہے، نجی کمپنیوں کے اکاؤنٹس افسران کو ملازمین کی تنخواہ سے ٹیکس کاٹنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
نجی کمپنیوں کے ڈی ڈی اوز ٹیکس منہا کرنے کے بعد عملہ کو تنخواہ ادا کریں گے، ٹیکس کی ناکامی کی صورت میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر رقم کی ادائیگی کا ذمہ دار ہوگا، ٹیکس کی رقم سرکاری خزانہ میں جمع کرائی جائے گی۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے امریکا میں وکیل کلائیو اسمتھ کا پاکستان آنے کا فیصلہ
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: پنجاب اسمبلی کمپنیوں کے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔