پی ایس ایل 2025،کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے اسپنر عثمان طارق کا بولنگ ایکشن مشکوک قرار
اشاعت کی تاریخ: 14th, April 2025 GMT
پی ایس ایل 2025،کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے اسپنر عثمان طارق کا بولنگ ایکشن مشکوک قرار WhatsAppFacebookTwitter 0 14 April, 2025 سب نیوز
راولپنڈی (آئی پی ایس )پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2025میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے اسپنر عثمان طارق کا بولنگ ایکشن مشکوک قرار دے دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق عثمان طارق کا ایکشن گزشتہ روز لاہور قلندرز کے خلاف کھیلے گئے میچ کے دوران رپورٹ کیا گیا۔ آن فیلڈ امپائرز احسن رضا اور کرس بران نے ان کا ایکشن مشکوک قرار دیا۔پی ایس ایل کے قواعد کے مطابق عثمان طارق فی الحال لیگ میں بولنگ جاری رکھ سکتے ہیں، تاہم اگر ان کا ایکشن دوبارہ رپورٹ ہوا تو انہیں بولنگ سے روک دیا جائے گا۔
معطلی کی صورت میں عثمان طارق کو دوبارہ بولنگ کی اجازت حاصل کرنے کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی)کی منظور شدہ لیبارٹری سے کلیئرنس لینا ہو گی۔پی ایس ایل حکام نے معاملے کا جائزہ لینے کے بعد مزید کارروائی کے لیے عثمان طارق کے ایکشن کی تفصیلات حاصل کرنی شروع کر دی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایکشن مشکوک قرار عثمان طارق کا پی ایس ایل
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔