آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے امریکی کانگریس کے وفد کی ملاقات کی جس میں علاقائی سلامتی و دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق امریکی کانگریس کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے آج چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری) سے جی ایچ کیو راولپنڈی میں ملاقات کی۔وفد کی قیادت معزز جیک برگمین کر رہے تھے، جن کے ہمراہ معزز تھامس سوزی اور معزز جوناتھن جیکسن بھی موجود تھے۔آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا.

جس میں علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون پر خصوصی توجہ مرکوز رہی۔ دونوں فریقین نے باہمی احترام، مشترکہ اقدار اور تزویراتی مفادات کے اشتراک کی بنیاد پر مسلسل رابطوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ امریکی اراکین کانگریس نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی مسلح افواج کے کلیدی کردار کو سراہا اور علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی مستقل کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے پاکستانی عوام کی استقامت اور تزویراتی صلاحیتوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ وفد نے پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے.سیکیورٹی، تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں وسیع البنیاد دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔جنرل سید عاصم منیر نے وفد کے دورے کو سراہا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے طویل المدتی تعلقات کو مزید گہرا اور متنوع بنانا چاہتا ہے. جس کی بنیاد باہمی مفادات اور احترام پر مبنی ہو۔آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ملاقات کے دوران انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں تربیتی تعاون سے متعلق مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر بھی دستخط کیے گئے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان