حافظ آباد، زہریلی مٹھائی سے 3 بچے جاں بحق، 5 کی حالت تشویشناک
اشاعت کی تاریخ: 15th, April 2025 GMT
حافظ آباد:
حافظ آباد کے نواحی علاقے قلعہ صاحب سنگھ میں زہریلی مٹھائی کھانے سے تین بچے جاں بحق جبکہ پانچ کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
واقعہ کے فوراً بعد متاثرہ بچوں کو طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں تین بچے جانبر نہ ہو سکے۔
ڈپٹی کمشنر حافظ آباد عبدالرزاق کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی ضلعی انتظامیہ حرکت میں آ گئی، اور فوری طور پر تمام متعلقہ اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کو ہسپتال طلب کیا گیا۔
پانچ شدید متاثرہ بچوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے لاہور کے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ڈی پی او حافظ آباد عاطف نذیر کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل اور ہر پہلو سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران موقع پر موجود ہیں اور زہریلی مٹھائی کے نمونے تجزیے کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق نے اس افسوسناک سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حافظ آباد
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔