ٹرمپ کی ایران کو دھمکی، جوہری خواب دیکھنا ترک کرو، ورنہ سنگین نتائج کے لیے تیار رہو
اشاعت کی تاریخ: 15th, April 2025 GMT
واشنگٹن:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر کھلے الفاظ میں دھمکی دے دی ہے کہ اگر تہران نے جوہری ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہونے کی کوشش کی تو اسے سنگین ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کا خواب دیکھنا چھوڑ دے، ورنہ اسے اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران پر عائد تمام غیرقانونی پابندیاں فوری طور پر ختم کرے چین
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران ہم سے معاہدہ چاہتا ہے مگر یہ نہیں جانتا کہ اس تک پہنچنا کیسے ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ایرانی مسئلے کو "حل کر دیں گے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کے دورِ صدارت میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اگر ایران جوہری عزائم ترک کر دے تو وہ ایک عظیم قوم بن سکتا ہے۔
ٹرمپ کے ان سخت بیانات کے پس منظر میں عمان میں ایران اور امریکا کے درمیان جوہری معاہدے پر بالواسطہ مذاکرات کا پہلا دور 12 اپریل کو منعقد ہوا، مذاکرات کی میزبانی سلطنت عمان نے کی۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران تناؤ قطر کے امیر شیخ تمیم کی تہران آمد
ذرائع کے مطابق، مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کی، جبکہ ایرانی وفد کی نمائندگی وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے تھے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت کا پہلا دور مثبت اور تعمیری رہا۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ مذاکرات کا دوسرا دور بھی عمان میں ہی متوقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔