حج کرنے کے خواہشمند افراد کیلئے ایک اور زبردست موقع
اشاعت کی تاریخ: 15th, April 2025 GMT
اس سال حج کرنے کے خواہشمند افراد کو ایک اور زبردست موقع فراہم کیا گیا ہے، نجی حج آپریٹرز کے ذریعے 10 ہزار عازمین حج کرسکیں گے۔
تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے 10 ہزار مزید پاکستانی عازمین کو حج کی اجازت دی گئی ہے، ذرائع نے بتایا کہ سعودیہ کے اس اقدام کے بعد وزارت مذہبی امور نے نجی حج آپریٹرز سے 10 ہزار عازمین کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ذرائع نے مزید بتایا کہ کوٹے پر عازمین جمع شدہ درخواستوں کے تحت پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر اس سال حج کرسکیں گے۔
وزارت مذہبی امور کے ذرائع نے بتایا کہ پالیسی کی خلاف ورزی یا غلط بیانی پر نجی حج کمپنی نااہل قرار دےدی جائےگی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کوٹے میں اضافے کے بعد اب نجی حج اسکیم کے تحت ساڑھے 12 ہزار کے بجائے ساڑھے 22 ہزار افراد حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرسکیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔