سول سوسائٹی گروپ کا مقبوضہ کشمیر کی ریاستی حیثیت کی فوری بحالی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, April 2025 GMT
سرینگر میں منعقدہ ایک اجلاس کے بعد تنظیم کے ممبران نے خبردار کیا کہ علاقے میں طویل سیاسی غیر یقینی صورتحال عوامی اعتماد کو ختم اور جمہوری اداروں کو کمزور کر رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سول سوسائٹی کی ایک سرکردہ تنظیم ”گروپ آف کنسرنڈ سیٹیزنز” نے علاقے کی ریاستی حیثیت بحال کرنے میں غیر معمولی تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ریٹائرڈ سرکاری افسران، ججوں، ماہرین تعلیم، وکلاء، ڈاکٹروں، انجینئروں اور کاروباری افراد پر مشتمل غیر سیاسی تنظیم نے سرینگر میں منعقدہ ایک اجلاس کے بعد خبردار کیا کہ علاقے میں طویل سیاسی غیر یقینی صورتحال عوامی اعتماد کو ختم اور جمہوری اداروں کو کمزور کر رہی ہے۔ تنظیم نے ایک بیان میں منتخب نمائندگی کے بغیر مرکزی اور مقامی حکام کے دوہرے ڈھانچے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ زمین پر موجود دہرے نظام حکومت کے سنگین نتائج ہوں گے۔ جی سی سی نے کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ریکارڈ بے روزگاری اور شکایات کے ازالے کی ناکامی انتہائی خطرناک ہے۔ بیان میں متنبہ کیا گیا کہ چھ سال سے زائد عرصے کے وقفے کے بعد منتخب حکومت کی تشکیل سے وابستہ عوامی توقعات گہری مایوسی میں تبدیل ہونے کا خطرہ ہے۔ بیان میں بھارتی سپریم کورٹ کے 11دسمبر 2023ء کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے جس میں جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی فوری بحالی کی ہدایت کی گئی تھی، مودی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مزید تاخیر کے بغیر اپنے وعدے پر عمل کرے جیسا کہ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بروقت عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
فائل فوٹوآزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع ہوگئی، میرپور ڈویژن میں انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر پی ٹی اے نے انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا عمل شروع کیا، آزاد کشمیر میں 5 جون سے انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔
آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کے باعث انٹرنیٹ سروس بند کی گئی تھی، چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے انٹرنیٹ بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔