امریکی حکومت ٹیرف سے متعلق مذاکرات کو اپنے تجارتی شراکت داروں پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ انہیں چین کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کو محدود کرنے پر مجبور کیا جائے۔
امریکی اخبار ’’وال سٹریٹ جرنل‘‘ کی رپورٹ کے مطابق ان مذاکرات کا مقصد مختلف ممالک سے یقینی دہانی لینا ہے کہ وہ ٹیرف میں کمی کے بدلے میں چین کو معاشی میدان میں تنہا کرنے پر امریکہ کا ساتھ دیں گے۔
امریکی حکام 70 سے زیادہ ممالک کے ساتھ ہونے والے ٹیرف مذاکرات کو آلہ کار کے طور پر استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان ممالک سے کہا جائے گا کہ وہ چینی مصنوعات کو اپنی سرحدوں سے گزرنے کی اجازت نہ دیں اور چین کے سستے صنعتی سامان کو اپنی مارکیٹ کا حصہ نہ بننے دیں۔
ان اقدامات کا مقصد چین کی پہلے سے ہی بدحال معیشت کو نقصان پہنچانا ہے اور صدرشی جن پنگ کو مذاکرات کی میز پر لانے پر مجبور کرنا ہے۔
ٹیرف سے متعلق مذاکرات کے دورن امریکہ کے ہر ملک سے مطالبات مختلف ہوں گے اور ان کا انحصار اس ملک کی مارکیٹ میں چینی مصنوعات کی موجودگی اور چین کے ساتھ معاشی تعلقات پر ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے بھی منگل کو ایک پروگرام میں اس حکمت عملی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ چاہیں گے کہ دیگر ممالک امریکہ اور چین کے درمیان کسی ایک کا انتخاب کریں۔
اس حکمت عملی کا مؤخذ وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کو سمجھا رہا ہے جنہوں نے تجارتی مذاکرات میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔
وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے 6 اپریل کو فلوریڈا میں صدر ٹرمپ کے کلب مار-اے-لاگو میں ہونے والے اجلاس میں اپنا یہ خیال پیش کیا تھا جس ک مقصد چینی معیشت کو تنہا کرنا، چین کو امریکی معیشت سے الگ تھلگ کرنا اور ممکنہ طور پر امریکی سٹاک ایکسچینج سے چینی سٹاکس کو ہٹانا ہے۔
صدر ٹرمپ کے ٹیرف کے جواب میں چین نے امریکی اشیا پر 125 فیصد برآمدی ڈیوٹی عائد کر دی ہے جس کے بعد دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی جنگ شدت اختیار کر گئی تھی۔
تاہم گزشتہ امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے کئی الیکٹرانک آلات کو ٹیرف میں چھوٹ دینے کا اعلان کیا تھا جس سے سمارٹ فونز، لیپ ٹاپس، میموری چپس اور دوسرے آلات اس ٹیرف سے مستثنیٰ ہیں۔
صدر ٹرمپ کے ٹیرف میں استثنیٰ کے اعلان کے بعد چین نے امریکہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے جوابی ٹیرف کو ’مکمل طور پر منسوخ‘ کر دے۔ تاہم اب بھی زیادہ تر چینی مصنوعات پر 145 فیصد ٹیرف لاگو ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد کئی ایسے ممالک پر اضافی ٹیرف لگانے کا اعلان کیا تھا جن میں اس کے حریف بھی شامل تھے اور شراکت دار بھی جبکہ پسماندہ ممالک کو بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔
کینیڈا، یورپی یونین اور چین سمیت دوسرے ممالک نے اس کے جواب میں امریکی اشیا پر ٹیکس عائد کیے اور اس صورت حال کی وجہ سے عالمی طور پر معیشت بری طرح ہیجان کا شکار رہی اور معاشی تجزیہ کاروں نے کساد بازاری کے خدشات سے خبردار کیا۔
اچانک صدر ٹرمپ نے ٹیرف کو 90 دن کے لیے واپس لینے کا اعلان کیا تاہم اس فہرست میں چین شامل نہیں تھا بلکہ اس پر ٹیکس کو مزید بڑھا دیا گیا تھا جس پر چین نے جوابی ٹیرف لگایا تھا۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اور چین میں چین کیا تھا چین کے

پڑھیں:

انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت امریکی محکمۂ خزانہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ غیر قانونی امیگریشن کی معاونت کے لیے استعمال ہونے

والے بینک اکاؤنٹس بند کرے۔

ٹرمپ نے 2 جون کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ یہ حکم ان بینکوں، کریڈٹ کارڈ کمپنیوں اور دیگر مالیاتی اداروں کو ہدف بناتا ہے جن کے ذریعے مجرم

عناصر انسانی اسمگلنگ، منشیات کی تجارت، غیر قانونی امیگریشن اور منظم جرائم پیشہ گروہوں سے وابستہ رقوم منتقل کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری

صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ غیر قانونی تارکینِ وطن اور غیر ملکی دھوکے باز ہر سال امریکی ٹیکس دہندگان سے اربوں ڈالر لوٹ لیتے ہیں۔

ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق ایسے بینک اکاؤنٹس جو غیر قانونی امیگریشن کی معاونت کے لیے استعمال ہو رہے ہوں یا جن میں غیر دستاویزی تارکینِ وطن کو دی جانے والی سرکاری امداد رکھی جا

رہی ہو، انہیں بند، ضبط یا بحقِ سرکار تحویل میں لیا جا سکتا ہے۔

President Trump announced that he has signed a new Executive Order aimed at cracking down on financial fraud and illegal immigration.

The order directs the Treasury Department to restrict banks, credit cards, and financial institutions from being used to support human smuggling,… pic.twitter.com/01rOIAWCxI

— Open Source Intel (@Osint613) June 2, 2026

صدر ٹرمپ کے مطابق وہ بینک اکاؤنٹس جو غیر قانونی امیگریشن کو سہولت فراہم کرنے یا غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملنے والی فلاحی امداد محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، بند کر دیے جائیں گے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے مجرمانہ نیٹ ورکس کے ذریعے امریکا سے باہر جانے والے اربوں ڈالر کے بہاؤ کو روکا جا سکے گا۔

محکمۂ خزانہ کی کارروائیاں

وائٹ ہاؤس اور محکمۂ خزانہ کے مطابق جرائم پیشہ تنظیمیں امریکی مالیاتی نظام کو غیر قانونی رقوم منتقل کرنے اور چھپانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ نئے حکم نامے کا مقصد بینکنگ سطح پر

ان نیٹ ورکس کی رسائی ختم کرنا ہے۔

اسی تناظر میں مارچ 2026 میں محکمۂ خزانہ نے میکسیکو کے سینالوا کارٹیل سے وابستہ ایک منی لانڈرنگ نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

مزید پڑھیں: صدرٹرمپ کا ووٹرشناختی کارڈ لازمی قرار دینے کا فیصلہ، ایگزیکٹیو آرڈر جلد متوقع

حکام کا الزام تھا کہ منشیات فروش فینٹانائل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو پہلے کرپٹو کرنسی میں تبدیل کرتے اور پھر یہ رقوم کارٹیل کے آپریٹرز تک پہنچائی جاتیں۔

امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے مارچ 2026 میں کہا تھا کہ محکمۂ خزانہ دہشتگرد کارٹیلز اور ان کے فینٹانائل اسمگلنگ نیٹ ورکس کو نشانہ بناتا رہے گا۔

مسئلے کا حجم

امریکی حکام کے مطابق مسئلہ کافی وسیع ہے۔ محکمۂ خزانہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نشاندہی کی ہے کہ چینی منی لانڈرنگ نیٹ ورکس مبینہ طور پر 312 ارب ڈالر سے زائد رقوم

امریکی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کر چکے ہیں۔

حکام نے مالیاتی نظام کو مزدوروں کی اسمگلنگ سے بھی جوڑا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ٹرانس جینڈر بچوں کی جنس تبدیلی کے علاج پر پابندی لگا دی

اپریل 2025 میں امریکی ادارے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یعنی آئی سی ای نے ریاست اوہائیو میں ایک مبینہ 126 ملین ڈالر مالیت کے غیر قانونی افرادی قوت فراہم کرنے اور منی لانڈرنگ

آپریشن سے منسلک اثاثے ضبط کیے تھے۔

آئی سی ای کے مطابق اس نیٹ ورک نے تقریباً 40 فرضی کمپنیوں کے ذریعے غیر دستاویزی کارکنوں کو ملازمت اور رہائش فراہم کی، جن میں سے بہت سے افراد میکسیکو کے راستے امریکا

اسمگل کیے گئے تھے۔ حکام کے مطابق اس دوران لاکھوں ڈالر بینک اکاؤنٹس، جائیدادوں اور لگژری اشیا کے ذریعے منتقل کیے گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسمگلنگ نیٹ ورکس امیگریشن امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ایگزیکٹو آرڈر دہشتگرد ریاست اوہائیو صدر ٹرمپ فینٹانائل کریڈٹ کارڈ محکمہ خزانہ منی لانڈرنگ وائٹ ہاؤس

متعلقہ مضامین

  • بڑھتا ٹیکسٹائل فضلہ: یو اے ای میں استعمال شدہ کپڑوں کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کا منصوبہ
  • اب وقت آگیا، دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، ٹرمپ کا ایران کو پیغام
  • جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر