تجارتی جنگ مزید شدت اختیارکرگئی، امریکا کا چین پر عائد ٹیرف 245فیصد تک پہنچ گیا WhatsAppFacebookTwitter 0 16 April, 2025 سب نیوز

واشنگٹن(سب نیوز) وائٹ ہاوس نے منگل کی رات ایک بیان میں کہا ہے کہ چین کو اب 245 فیصد تک کے نئے درآمدی ٹیرف کا سامنا ہے جو چین کی جوابی تجارتی پابندیوں کے ردعمل میں لگائے گئے ہیں۔
وائٹ ہاوس کے بیان میں کہا گیا کہ صڈر ٹرمپ نے ایک نئے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت امریکی حکومت نے اہم معدنیات کی درآمدات پر قومی سلامتی کی تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔ وائٹ ہاوس کے اسی بیان میں صدر ٹرمپ کی جانب سے اٹھائے گئے معاشی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ چین اب امریکا کو کی جانے والی برآمدات پر 245 فیصد تک کے ٹیرف کا سامنا کر رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اس ٹیرف میں 125 فیصد جوابی ٹیرف، منشیات کے بحران سے نمٹنے کے لیے 20 فیصد ٹیرف اور منتخب اشیا پر 7.

5 فیصد سے 100 فیصد کے درمیان ٹیرف شامل ہے۔ وائٹ ہاوس کے مطابق دنیا کے 75 سے زائد ممالک نئے تجارتی معاہدوں پر بات چیت کے لیے واشنگٹن سے رابطے میں ہیں اس سلسلے میں دیگر ممالک پر مجوزہ ٹیرف عارضی طور پر روک دیے گئے ہیں، تاہم چین پر ٹیرف بدستور عائد ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ کچھ ماہ قبل چین نے امریکا کو گیلیم، جرمانیم، اینٹمونی اور دیگر کلیدی ہائی ٹیک دھاتوں کی برآمد پر پابندی عائد کر دی تھی جن کے فوجی استعمال کے امکانات تھے۔
وائٹ ہاوس کے مطابق رواں ہفتے چین نے 6 ہیوی ریئر ارتھ میٹلز اور ریئر ارتھ میگنیٹس کی برآمدات بھی معطل کر دی ہیں۔امریکی حکومت نے چین پر عائد کیے گئے ٹیرف کی درست شرح واضح نہیں کی تاہم بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شرح 245 فیصد تک جاسکتی ہے۔امریکی اقدام کے ردعمل میں ترجمان چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ محصولات کی جنگ امریکا نے شروع کی، چین نے اپنے جائز حقوق کے دفاع میں جوابی اقدامات کیے ہیں، تجارت اور محصولات کی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا، چین ایسی جنگیں نہیں لڑنا چاہتا لیکن ان سے خوفزدہ بھی نہیں ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: چین پر

پڑھیں:

غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ

غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ  کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔

یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔

اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔

آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔

آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

غذائی قلت غزہ فلسطین

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ