لیڈرز اِن اسلام آباد بزنس سمٹ کا آغاز — ملکی ترقی، آئی ٹی، ماحولیاتی تبدیلی، عدالتی اصلاحات اور نجکاری پر توجہ مرکوز
اشاعت کی تاریخ: 17th, April 2025 GMT
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دو روزہ "لیڈرز ان اسلام آباد بزنس سمٹ” کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس سمٹ میں مختلف اہم موضوعات پر سیر حاصل سیشنز کا انعقاد کیا جا رہا ہے جن میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، ماحولیاتی تبدیلی، عدالتی اصلاحات، نجکاری اور ملکی ترقی کے لیے پالیسی اصلاحات شامل ہیں۔ سمٹ میں وفاقی وزراء احسن اقبال، شزہ فاطمہ، مصدق ملک، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، جسٹس عائشہ ملک سمیت بین الاقوامی مندوبین اور ماہرین نے شرکت کی۔
افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر سرمایہ کاری اظفر احسن نے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ ایف ڈی آئی کے لیے موجودہ سرمایہ کاروں پر توجہ دی جائے، اور چین، سعودی عرب، قطر، عمان اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ کاروبار کرنے کے لیے بزنس کمیونٹی کو مزید مواقع فراہم کیے جائیں۔
وفاقی وزیر برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام شزہ فاطمہ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حوالے سے کہا کہ زراعت، صحت، تعلیم، کامرس اور پیداوار میں ٹیکنالوجی نمایاں تبدیلیاں برپا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ڈیجیٹل دنیا سے نکل کر مصنوعی ذہانت کی دنیا میں داخل ہو رہے ہیں، اور اگر ہم دنیا کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہوئے تو تنہا ہو جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل ترقی کے لیے تسلسل ضروری ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں سکیورٹی کا بڑا مسئلہ ہے، لیکن حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر امن قائم کرنے میں مصروف ہے۔
نجکاری پر بات کرتے ہوئے محمد علی نے کہا کہ حکومت کو کاروبار سے نکلنا ہوگا، کیونکہ کاروبار کرنا حکومت کا کام نہیں ہے۔ ہمیں ایسا معاشی ماڈل چاہیے جس میں حکومت کاروبار سے نکل کر نجکاری کی طرف بڑھے۔
سپریم کورٹ کی جج جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ پاکستان جیسے معاشرے میں ثالثی اور تنازعات کے حل کے متبادل طریقے کا استعمال ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اداروں میں شکایات کے حل کے لیے سیلز قائم کرنے کی ضرورت ہے جو ابھی تک سست روی سے کام کر رہی ہیں۔
ماحولیاتی تبدیلی پر وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ ہمیں قدرتی ماحول کو دوبارہ اپنانا اور بحال کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے بچپن، رنگ، خوشیاں، پھول اور موسیقی واپس لانی ہوگی۔
کے الیکٹرک کی چیف ڈسٹری بیوشن اور مارکوم آفیسر سعدیہ دادا نے کہا کہ پانی اور توانائی کی بچت کے اقدامات صرف اس صورت میں کامیاب ہو سکتے ہیں جب لوگوں کو اس کی اہمیت کا احساس ہو۔
سمٹ کے پہلے روز مختلف موضوعات پر چھ سیر حاصل سیشنز کا انعقاد کیا گیا جس میں 30 سے زائد ملکی و بین الاقوامی ماہرین نے پاکستان کو درپیش مسائل اور ان کے حل پر گفتگو کی۔ سمٹ میں شہریوں کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔ "لیڈرز ان اسلام آباد بزنس سمٹ” کل بھی جاری رہے گا۔
اشتہار
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
اسلام آباد: وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات نتیجہ خیزنہ ہوسکے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومتی ٹیم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اجلاس ختم ہوگیا۔اجلاس میں کوئی آئینی ترمیم زیر بحث نہیں۔ این ایف سی میں تبدیلی پر بھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔ پیپلزپارٹی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔اس سے پہلے5 جون کو ہونے والا بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا تھا،نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا تھا حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کو بجٹ منظوری سے مشروط کیا تھا۔