کراچی میں آج موسم گرم رہنے کا امکان: وقفے وقفے سے تیز ہواؤں کی پیشگوئی
اشاعت کی تاریخ: 17th, April 2025 GMT
محکمہ موسمیات نے کراچی کے شہریوں کو آج کے موسم سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران شہر کا موسم گرم اور مرطوب رہے گا جبکہ وقفے وقفے سے تیز ہوائیں چلنے کا بھی امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق آج شہر کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت چھتیس سے اٹھتیس ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کی توقع ہے جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب اکتر فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے جو گرمی کے احساس کو مزید بڑھا سکتا ہے مزید بتایا گیا ہے کہ سمندری ہوائیں آٹھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں اور وقفے وقفے سے ان کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے جو گرمی کی شدت کو کسی حد تک کم کرنے میں مددگار ثابت ہو گی محکمہ موسمیات نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں اور پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں تاکہ گرمی کے اثرات سے محفوظ رہا جا سکے
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔