اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔17 اپریل ۔2025 )سابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ تیل کی قیمت کم ہو توپھر ٹیکس نہیں بڑھانا چاہیئے، عوام سے ایک ہاتھ سے لیا اور دوسرے ہاتھ واپس کیا جارہاہے، گزشتہ ماہ 17ارب اور رواں ماہ 30ارب ٹیکس بڑھانا منی بجٹ ہے،اب مئی اور جون کے مہینے میں پھر 30، 30ارب روپے کا ٹیکس آئے گا،اس وقت پیٹرول فی لیٹر 78روپے اور ڈیزل پر 77روپے 7پیسے لیوی ٹیکس عائد ہے.

(جاری ہے)

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ رواں سال جنوری کے شروع میں پیٹرول پر لیوی 60روپے فی لیٹر تھی جب عالمی منڈی میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھتی گئی تو ہم بھی یہاں قیمتیں بڑھاتے گئے پچھلے مہینے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم ہوئیں تو حکومت نے لیوی 10،10روپے بڑھا کر 70 روپے کردی جس سے حکومت کو ماہانہ 17ارب روپے اکٹھے ہوئے، اب بجلی کی قیمت میں کمی کردی یعنی عوام سے ایک ہاتھ سے لیا اور دوسرے ہاتھ واپس کردیا.

انہوں نے کہا میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کو کہا ہوا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرول سستا ہونے کے باوجود یہ نہیں سستا نہیں کریں گے اب حکومت نے 78روپے لیوی پیٹرول اور 77روپے ڈیزل پر لیوی کردی ہے انہوں نے کہا کہ حکمران اب کہہ رہے کہ بلوچستان کی سڑک بنانی ہے، 77ارب کی موٹروے رائیونڈ سے اوکاڑہ کی طرف بن رہی ہے، ایک موٹروے سیالکوٹ سے کھاریاں اور راولپنڈی ،ٹیکس سے اکھٹا ہونے والا پیسہ پورے پاکستان کا ہے مگر موٹرویزپنجاب میں بن رہی ہیں اور جب بلوچستان کی سڑک بنانی ہوتو کہتے الگ لیوی لگائیں گے؟ حکومت کے پاس بہت پیسا پڑا ہے بلوچستان کی سڑک بھی بن سکتی ہے اس وقت ہر صوبے کے پاس بجٹ سرپلس میں ہے.

انہوں نے کہا میں منی بجٹ اس لئے کہہ رہا کہ پچھلے مہینے 17ارب ، اس ماہ 30ارب ٹیکس بڑھایا ہے، اب مئی اور جون کے مہینے میں پھر 30، 30ارب روپے کا ٹیکس آئے گا، تو اس کو منی بجٹ ہی کہا جائے گا میں یقین دلاتا ہوں کہ بلوچستان کی سڑک اس سال شروع بھی نہیں ہوگی، پیٹرول فی لیٹر 78 روپے لیوی اور ڈیزل پر 77روپے 7پیسے لیوی ٹیکس عائد ہے کسٹم ڈیوٹی الگ وصول کی جاتی ہے.

مفتاح اسماعیل نے کہا میں اس حق میں ہوں کہ جب پیٹرول کی قیمت مہنگی تو مہنگی کرنی چاہیئے لیکن جب قیمت کم ہوتی ہے تو پھر ٹیکس نہیں بڑھنے چاہئیں اب حکومت کے پاس موقع تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو کم کرتی،عالمی مارکیٹ میں پیٹرول سمیت دیگر چیزوں کی قیمتیں کم ہونے سے پاکستان میں بھی مہنگائی میں کمی آئی ہے، حکومت نے پیٹرول سستا کرنے کی بجائے لیوی میں اضافہ کردیا ہے.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انہوں نے کہا میں پیٹرول حکومت نے اور ڈیزل کی قیمت

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم