این اے 213 عمر کوٹ کے ضمنی الیکشن میں پیپلزپارٹی کامیاب
اشاعت کی تاریخ: 17th, April 2025 GMT
عمرکوٹ(نیوز ڈیسک)این اے 213 عمر کوٹ کے ضمنی الیکشن میں پیپلزپارٹی نے میدان مار لیا۔
عمر کوٹ کے تمام 498 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی کی امیدوار صبا تالپور ایک لاکھ 48 ہزار 965 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئیں۔
اپوزیشن امیدوار لال مالھی 74 ہزار 515 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
عمر کوٹ کے ضمنی الیکشن میں کامیابی پر پیپلزپارٹی کے جیالوں کی جانب سے جشن منایا جارہا ہے اور مٹھائیاں تقسیم کی جارہی ہیں۔
واضح رہے کہ این اے 213 عمر کوٹ میں ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی جو شام 5 بجے تک بلاتعطل جاری رہی۔
حلقے میں مجموعی طور پر 18امیدوار مد مقابل تھے، ضمنی انتخاب میں پیپلزپارٹی کی امیدوار صبا تالپور اور جی ڈے اے کے حمایت یافتہ امیدوار لال چند مالھی میں سخت مقابلہ متوقع تھا۔
یاد رہے کہ این اے 213 عمر کوٹ کی نشست پیپلزپارٹی کے رہنما نواب یوسف تالپور کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔
مزیدپڑھیں:بھارت: ہونیوالے داماد کو لیکر فرار ہونیوالی خاتون شادی کیلئے بضد،بیان سامنے آگیا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: اے 213 عمر کوٹ عمر کوٹ کے
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔