Daily Ausaf:
2026-07-23@23:32:32 GMT

این اے 213 عمر کوٹ کے ضمنی الیکشن میں پیپلزپارٹی کامیاب

اشاعت کی تاریخ: 17th, April 2025 GMT

عمرکوٹ(نیوز ڈیسک)این اے 213 عمر کوٹ کے ضمنی الیکشن میں پیپلزپارٹی نے میدان مار لیا۔

عمر کوٹ کے تمام 498 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی کی امیدوار صبا تالپور ایک لاکھ 48 ہزار 965 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئیں۔

اپوزیشن امیدوار لال مالھی 74 ہزار 515 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

عمر کوٹ کے ضمنی الیکشن میں کامیابی پر پیپلزپارٹی کے جیالوں کی جانب سے جشن منایا جارہا ہے اور مٹھائیاں تقسیم کی جارہی ہیں۔

واضح رہے کہ این اے 213 عمر کوٹ میں ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی جو شام 5 بجے تک بلاتعطل جاری رہی۔

حلقے میں مجموعی طور پر 18امیدوار مد مقابل تھے، ضمنی انتخاب میں پیپلزپارٹی کی امیدوار صبا تالپور اور جی ڈے اے کے حمایت یافتہ امیدوار لال چند مالھی میں سخت مقابلہ متوقع تھا۔

یاد رہے کہ این اے 213 عمر کوٹ کی نشست پیپلزپارٹی کے رہنما نواب یوسف تالپور کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔
مزیدپڑھیں:بھارت: ہونیوالے داماد کو لیکر فرار ہونیوالی خاتون شادی کیلئے بضد،بیان سامنے آگیا

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: اے 213 عمر کوٹ عمر کوٹ کے

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن