مارچ میں ماہانہ بنیادوں پر تاریخ کا سب سے بڑا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 18th, April 2025 GMT
مارچ 2025 میں کرنٹ اکاؤنٹ ایک ارب 19 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سرپلس رہا، یہ تاریخ میں سب سے ماہانہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہے، گزشتہ برس اسی مہینے میں کرنٹ اکاؤنٹ 36 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سرپلس رہا تھا۔اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال 2025 کے پہلے 9 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ ایک ارب 85 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سرپلس رہا جبکہ گزشتہ مالی سال جولائی تا مارچ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ میں ایک ارب 65 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
مارچ 2025 میں اشیا کی برآمدات2 ارب 76 کروڑ 80 لاکھ ڈالر جبکہ درآمدات 4 ارب 94 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئی، اس طرح مارچ 2025 میں 2 ارب 18 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کا تجارتی خسارہ ہوا۔اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں خدمات کی برآمدات 74 کروڑ 40 لاکھ ڈالر جبکہ درآمدات 97 کروڑ ڈالر رہیں، اس طرح خدمات کی تجارت میں 22 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا۔دریں اثنا، عارف حبیب لمیٹڈ نے رپورٹ کیا کہ یہ مارچ 2025 میں تاریخ میں سب سے زیادہ 1.
اشتہار
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: کرنٹ اکاؤنٹ لاکھ ڈالر ڈالر کا
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔