Daily Mumtaz:
2026-07-24@05:45:53 GMT

کانگو : کشتی میں آگ لگنے سے ہلاکتیں 148 ہوگئیں

اشاعت کی تاریخ: 19th, April 2025 GMT

کانگو : کشتی میں آگ لگنے سے ہلاکتیں 148 ہوگئیں

افریقی ملک جمہوریہ کانگو کے شمال مغربی علاقے میں واقع دریائے کونگو میں لکڑی کی موٹر بوٹ میں آگ لگنے اور الٹنے کے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 148 ہوگئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ منگل کے روز پیش آیا تھا، جس میں ابتدائی طور پر 50 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع تھی۔

ایکوئٹور صوبے کے ایک اہلکار کے مطابق کشتی میں تقریباً 500 مسافر سوار تھے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ پہلے ہی ظاہر کیا جا رہا تھا۔

دریائی کمشنر کومپیٹنٹ لویوکو کے مطابق کشتی میں آگ اس وقت لگی جب ایک مسافر کشتی میں کھانا پکا رہا تھا۔

حادثہ شہر مبانڈاکا کے قریب پیش آیا، جہاں دریائے کونگو اور دریائے روکی آپس میں ملتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کشتی میں موجود کئی افراد، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، تیراکی نہ آنے کے باعث پانی میں کودنے کے بعد ڈوب گئے۔

مقامی سماجی رہنما جوزف لوکونڈو کے مطابق کچھ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جبکہ درجنوں خاندان اپنے پیاروں کی تلاش میں بے خبر بیٹھے ہیں۔

قومی اسمبلی کے ارکان کے وفد کی سربراہ جوزفین پاسیفک لوکومو نے میڈیا کو بتایا کہ بدھ کے روز 131 لاشیں نکالی گئیں، جبکہ جمعرات اور جمعہ کو مزید 12 لاشیں برآمد ہوئیں۔ ان میں سے کئی لاشیں جھلس چکی تھیں۔

سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر اور ویڈیوز میں کشتی سے شعلے اور دھواں اٹھتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ قریبی چھوٹی کشتیوں پر موجود لوگ مدد کرتے نظر آتے ہیں۔

مقامی ریڈ کراس ٹیموں نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا اور مقامی حکام کی مدد کی۔

واضح رہے کہ جمہوریہ کانگو میں کشتی حادثات معمول کا حصہ ہیں، کیونکہ ملک میں سڑکوں اور ہوائی راستوں کا مناسب نظام موجود نہیں۔ لوگ اکثر سفر کے لیے دریاؤں اور جھیلوں پر انحصار کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ 2019 میں لیک کیوو میں ایک کشتی ڈوبنے سے تقریباً 100 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

Post Views: 3.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے مطابق کشتی میں

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ