مریم نواز شریف سے یورپی یونین کے پارلیمانی وفد برائے جنوبی ایشیا کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 19th, April 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 19 اپریل2025ء) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہیکہ پاکستان یورپی یونین کیساتھ قابل اعتماد دوستی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔پنجاب پاکستان کی معیشت کا دل ہے، سرمایہ کاری کے لئے سازگار ماحول مہیا کر رہے ہیں، زراعت، توانائی، ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر اور ماحولیاتی منصوبوں میں یورپی یونین کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔
مریم نواز شریف سے یورپی یونین کے پارلیمانی وفد برائے جنوبی ایشیا نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، دوطرفہ تعلقات، تجارت، تعلیم اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال کیا گیا، تعلیم، آئی ٹی، گرین انرجی اور صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی پیشکش، تجارت، امن، ترقی اور مشترکہ اہداف کے لئے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق ہوا۔(جاری ہے)
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ قابل اعتماد دوستی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، یورپی یونین پاکستان کا شراکت دار ہی نہیں بلکہ دنیا میں استحکام کی آواز بھی ہے، جی ایس پی پلس ملنے سے پاکستان کی برآمدات، بالخصوص ٹیکسٹائل کے شعبے میں بہت بہتری آئی ہے، انسانی حقوق اور لیبر ریفارمز سمیت تمام تقاضے پورے کرنے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب پاکستان کی معیشت کا دل ہے، سرمایہ کاری کے لئے سازگار ماحول مہیا کر رہے ہیں، زراعت، توانائی، ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر اور ماحولیاتی منصوبوں میں یورپی یونین کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہتے ہیں، پاکستان کے نوجوان باصلاحیت اور متحرک ہیں، عالمی جاب مارکیٹ سے منسلک کرنے کے لئے ٹریننگ کورسز کرا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خوشی ہے کہ پاکستانی طلبہ تیسرے سال بھی Erasmus Mundusسکالرشپ حاصل کرنے والوں میں سرفہرست ہیں، پاکستان علاقائی و عالمی امن کے لئے پرعزم ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے یورپی یونین کے سرمایہ کاری رہے ہیں کے لئے
پڑھیں:
یورپی یونین نے ایران کے 5 ججوں اور سائبر گروپ کے بانی پر پابندیاں عائد کردیں
یورپی یونین نے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے الزام میں ایران کے 5 ججوں اور ایک سائبر گروپ کے بانی پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی یونین کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں نیما صالحی بھی شامل ہیں جو ایرانی سائبر گروپ آشیانے کے بانی ہیں۔
یورپی یونین کا الزام ہے کہ یہ گروپ ایران کی سائبر پولیس فاٹا اور پاسداران انقلاب کے ساتھ قریبی تعاون کرتے ہوئے حکومتی سطح پر معلومات کے بہاؤ کو محدود کرنے اور آن لائن نگرانی میں مدد فراہم کرتا رہا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر پانچ ایرانی ججوں کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے تاہم ان ججوں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کایا کالاس نے کہا کہ جیسے جیسے ایران اندرونِ ملک کریک ڈاؤن میں شدت لا رہا ہے۔ یورپی یونین ذمہ دار افراد کا احتساب جاری رکھے گی۔
یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ نے مزید کہا کہ اب تک ایران سے متعلق پابندیوں کی فہرست میں 269 افراد اور 53 ادارے یا تنظیمیں شامل کیے جا چکے ہیں۔