ایم کیو ایم پاکستان سندھ کے پانی پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گی، ڈاکٹر فاروق ستار
اشاعت کی تاریخ: 19th, April 2025 GMT
کراچی:
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ سندھ کے پانی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
کراچی ایکسپو سینٹر میں منعقدہ فرنیچر نمائش کے دورے کے موقع پر میڈیا نمائندگان سے گفتگو فاروق ستار نے زور دیا کہ پیپلز پارٹی متنازع کینالوں کے معاملے پر جلسوں کے پیچھے چھپنے کے بجائے آل پارٹیز کانفرنس بلائے اور بتائے کہ صدر نے اس فیصلے پر دستخط کئے تھے یا نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی پنجاب سے سندھ کے حصے کا پانی لیتی ہے مگر کراچی کو اُسکے حق کا پانی نہیں دیتی ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متنازع کینالز کے معاملے پر ہمارا دو ٹوک مؤقف ہے ایم کیو ایم پاکستان سندھ کے پانی پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ کراچی والے فراغ دل ہونے کے ساتھ ساتھ صابر اور شاکر بھی ہیں کہ جن کو کبھی بجلی، پانی تو کبھی گیس کی لوڈشیڈنگ کے نام پر تنگ کیا جاتا ہے شہر کی سڑکیں اور انفراسٹرکچر تباہ و برباد ہوچکا مگر اسکے باوجود کراچی کے شہری صبر کئے ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ اس وقت میٹرک کے امتحانات کے دوران لوڈ شیڈنگ اور مختلف سینٹرز کی تبدیلیوں نے طلباء اور والدین کو پریشان کر رکھا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر فاروق ستار فاروق ستار نے سندھ کے
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :