لاہور، شکیل ترابی کو سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی مقرر کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, April 2025 GMT
سیکرٹری اطلاعات نے مرکز جماعت منصورہ میں اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ شکیل احمد ترابی زمانہ طالب علمی سے تحریک اسلامی سے وابستہ ہیں۔ شکیل ترابی اسلامی جمعیت طلبہ میں مختلف ذمہ داریوں پر فائز رہے۔ شکیل ترابی جماعت اسلامی کشمیر سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ شکیل احمد ترابی میڈیا امور کا طویل تجربہ رکھتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے شکیل احمد ترابی کو سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی مقرر کر دیا ہے۔نئے سیکرٹری اطلاعات نے مرکز جماعت منصورہ میں اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ شکیل احمد ترابی زمانہ طالب علمی سے تحریک اسلامی سے وابستہ ہیں۔ شکیل ترابی اسلامی جمعیت طلبہ میں مختلف ذمہ داریوں پر فائز رہے۔ شکیل ترابی جماعت اسلامی کشمیر سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ شکیل احمد ترابی میڈیا امور کا طویل تجربہ رکھتے ہیں۔ سابق سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف کو جماعت اسلامی کی تنظیمی ذمہ داریاں دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کا اعلان جلد متوقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی جماعت اسلامی شکیل ترابی
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔