آصف زرداری سندھ کا پانی بیچ کر آنسو بہا رہے ہیں، قائد حزب اختلاف
اشاعت کی تاریخ: 21st, April 2025 GMT
سندھ کے پانی پر قبضہ کرنے کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہی نہیں بلایا گیا
پاکستان میں استحکام نہیں ،قانون کی حکمرانی نہیں تو ہارڈ اسٹیٹ کیسے بنے گی؟عمرایوب
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عمر ایوب نے حکومتی اتحاد پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کے پانی پر قبضہ کیا گیا ہے اور آصف زرداری سندھ کا پانی بیچ کر اب مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہیں۔ اسلام آباد میں استحکام پاکستان کانفرنس سے خطاب میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب کا کہنا تھا کہ کہا جاتا ہے پاکستان کو ہارڈ اسٹیٹ ہونا چاہیے ، جب پاکستان میں استحکام نہیں اور قانون کی حکمرانی نہیں تو ہارڈ اسٹیٹ کیسے بنے گی۔ان کا کہنا تھا کہ جب ملک میں پیسا نہیں ہو گا، افراتفری ہو گی، دفاع کمزور ہو گا تو ملک کیسے ترقی کرے گا اور میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ یہاں سے یہ فیڈ ٹی وی چینلز پر نہیں چل رہی ہو گی۔عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ریاست کی تعریف کیا ہے ؟ ریاست مجلس شوریٰ ہے ، افواج، انٹیلی جنس ایجنسیاں ریاست کے اوزار ہیں، یہ تو ایسا ہے کہ چوکیدار اٹھ کر کہے کہ گھر میں چلاؤں گا۔انہوں نے کہا کہ جب ہم سچ بتانے لگتے ہیں تو بس پھر ٹی وی کی فیڈ کٹ جاتی ہے ، بلوچستان والے کہتے ہیں جبری گمشدگیوں کو ختم کرو اور ہمارے وسائل پر ہمیں حق دو۔عمر ایوب نے کہا کہ سندھ کے پانی پر قبضہ کرنے کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہی نہیں ہوا، آصف زرداری نے خود سندھ کا پانی بیچا اور پھر مگرمچھ کے آنسو بہا رہا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ جولائی 2024میں ایوان صدر میں گرین انیشیٹو کا اجلاس ہوتا ہے جس میں تمام چیزیں موجود ہیں اور اس پر آصف علی زرداری دستخط کرتے ہیں، آصف علی زرداری نے پہلے ہی سندھ کا پانی بیچ دیا ہے اور وزرا اس کی تصدیق کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں پیٹرول کی قیمتیں کم ہوئی ہیں، پاکستان میں مہنگائی زیادہ ہوئی ہے ۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ جعفر ایکسپریس انٹیلی جنس ناکامی تھی لیکن انٹیلی جنس والے ڈالے لے کر ہمارے اور میڈیا کے پیچھے گھوم رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔