امریکی سیکریٹری دفاع پر دوسری بار یمن حملوں سے متعلق خفیہ معلومات سگنل پر شیئر کرنے کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 21st, April 2025 GMT
امریکا کے سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگزتھ کو ایک بار پھر یمن پر امریکی حملوں کی پیشگی معلومات ‘سگنل’ گروپ میں غیرمتعلقہ افراد سے شیئر کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیکریٹری دفاع نے یمن پر ہونے والے فضائی حملوں کی خبر ‘سگنل’ مسیجنگ ایپ کے ایک گروپ میں دی جس میں ان کا بھائی، بیوی اور ذاتی وکیل شامل تھے۔
گزشتہ مہینے ‘دی اٹلانٹک میگزین’ نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ ان کے ایڈیٹر ان چیف کو سگنل کے ایک ایسے گروپ کا حصہ بنایا گیا جس میں سیکریٹری دفاع سمیت مختلف حکام یمن پر امریکی حملوں سے متعلق گفتگو کررہے تھے۔
اس انکشاف کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ پر حساس سیکیورٹی معاملات غیرمتعلقہ لوگوں سے شیئر کرنے پر شدید تنقید کی گئی تھی۔ اس واقعے کی تحقیقات پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل کی سربراہی میں ہورہی ہیں۔
‘دی ٹائمز’ کے مطابق سیکریٹری دفاع پیٹے ہیگسیتھ نے اس سگنل گروپ میں 15 مارچ کے امریکی حملوں کے بارے میں معلومات دی تھیں جس میں امریکی بمبار طیارے کی فلائٹ شیڈول سے متعلق تفصیلات بھی شامل تھیں۔
اخبار کے مطابق اس سے قبل سگنل گروپ میں ایڈیٹر ان چیف کو غلطی سے شامل کیا گیا تھا تاہم حالیہ چیٹ میں گروپ پیٹ ہیگزتھ نے خود جنوری میں عہدہ سنبھالنے سے قبل بنایا تھا۔
حالیہ خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے پینٹاگون کے ترجمان نے نیویارک ٹائمز کو ‘ٹرمپ سے نفرت کرنے والا میڈیا’ کہا۔ ترجمان نے دعویٰ کیا کہ سگنل چیٹ میں کسی قسم کی خفیہ تفصیلات شامل نہیں تھیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Pete Hegseth US Defence Secretary پیٹ ہیگزتھ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سیکریٹری دفاع گروپ میں
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔