سینیٹ: خالی نشست کیلئے 4 امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال
اشاعت کی تاریخ: 21st, April 2025 GMT
— فائل فوٹو
سینیٹ کی خالی نشست پر 4 امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا دیے گئے جبکہ جانچ پڑتال جاری ہے۔
یہ نشست پیپلز پارٹی کے سینیٹر تاج حیدر کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔
سینیٹ کی خالی نشست کے لیے امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال جاری ہے۔
اس نشست کے لیے پیپلز پارٹی کے امیدوار وقار مہدی الیکشن کمیشن کے دفتر پہنچ گئے۔
وقار مہدی کے ہمراہ وزیرِ بلدیات سندھ سعید غنی بھی موجود تھے۔
الیکشن کمیشن نے سینیٹ کی خالی نشست پر الیکشن شیڈول کا اعلان کر دیا۔
سینیٹ کی اس سیٹ پر پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم سمیت 4 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں۔
چاروں امیدواروں کے کاغذات کی آج جانچ پڑتال کی جائے گی۔
یہ نشست پیپلز پارٹی کے تاج حیدر کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: امیدواروں کے کاغذات پیپلز پارٹی جانچ پڑتال خالی نشست سینیٹ کی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔