ہیلمٹ نہ پہننے والے موٹر سائیکل سواروں کو خبردار کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے ہیلمٹ نہ پہننے والے موٹر سائیکل سواروں کو خبردار کردیا۔
ایک بیان میں آئی جی سندھ نے ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کے حوالے سے کہا کہ ہیلمٹ نہ پہننے پر مزید سختی کریں گے، جن کے پاس ہیلمٹ نہیں ہوگا اس کی موٹر سائیکل بند کرکے ہیلمٹ لانے کا کہا جائے گا، چاہتے ہیں ٹریفک پولیس عوام دوست ہو۔
آئی جی سندھ نے ڈکیتی کی وارداتوں کے حوالے سے کہا کہ 400 ڈاکووں کوگرفتارکیا گیا ہے۔غلام نبی میمن کا کہنا تھا کہ ہزار تفتیشی افسر بطور اے ایس آئی بھرتی ہوکر جوائن کریں گے تو بڑا فرق پڑے گا، کوئی پولیس افسر جرم کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کے خلاف کریمنل کارروائی ہوتی ہے، کیسز پولیس افسران کے خلاف رجسٹرڈ ہوئے اورکارروائیاں بھی ہورہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مودی حکومت نے رات کی تاریکی میں مسمار کردیا
انہدامی کارروائی محض 22 منٹ میں 5 بلڈوزرز کے ذریعہ انجام دی گئی، یہ مسجد تقریباً 42 فیٹ اونچی تھی، جسکو مسمار کئے جانے کے بعد ملبہ راتوں رات ٹرکوں میں بھر کر وہاں سے ہٹادیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر وارانسی میں گزشتہ شب مودی حکومت نے 200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مسمار کر دیا اور ساتھ ہی وہاں موجود مزار اور قبرستان کے کچھ حصہ کو بھی منہدم کر دیا گیا۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ مسجد کو منہدم کرنے کی کارروائی محض 22 منٹ میں 5 بلڈوزرز کے ذریعہ انجام دی گئی۔ یہ مسجد تقریباً 42 فیٹ اونچی تھی، جس کو مسمار کئے جانے کے بعد ملبہ راتوں رات ٹرکوں میں بھر کر وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ یعنی بدھ کی صبح جب لوگ اس جگہ سے گزرے تو مسجد اور مزار کا نام و نشان مٹ چکا تھا۔
ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ کل دیر شب تقریباً 12 بجے انتظامیہ کے اعلیٰ افسران 1000 سے زائد جوانوں کے ساتھ "از غیب شہید مسجد" کے پاس پہنچے اور علاقہ کا معائنہ کیا۔ ڈی سی پی کاشی گورو بنسوال اور اے ڈی سی پی ویبھو بانگر نے مسجد کے چاروں طرف بیریکیڈنگ کروائی اور لوگوں کی آمد و رفت پر روک لگا دی گئی۔ حتیٰ کہ میڈیا اہلکاروں کو بھی اس جگہ پر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ رات کی تاریکی میں خاموشی کے ساتھ یہ کام ہوا اور جب تک مسجد منہدم ہونے کی خبر لوگوں تک پہنچی، ملبہ بھی وہاں سے ہٹایا جا چکا تھا۔
انتظامیہ نے مسجد منہدم کرنے کے لئے رات کی تاریکی کا انتخاب کرنے کی کوئی آفیشیل وجہ نہیں بتائی۔ پولیس اہلکاروں نے یہ ضرور کہا کہ ٹریفک سے بچنے کے لئے رات میں کارروائی کی گئی۔ راج گھاٹ واقع کاشی ریلوے اسٹیشن کے احاطہ میں موجود اس مسجد کو منہدم کرنے سے پہلے اے سی پی شیوہری مینا نے افسروں کے ساتھ پہنچ کر جائزہ لیا تھا۔ بعد ازاں سخت سیکورٹی میں مزار اور اس کے قریب بنی مسجد کو مسمار کر دیا گیا۔ موصولہ اطلاع کے مطابق بھدؤ چنگی واقع قلعہ کوہنا علاقہ میں "از غیب شہید کی مسجد اور قبرستان کئی سالوں سے تنازعہ کا شکار رہا۔
مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ مسجد 200 سال قدیم تھی۔ مسجد کے متولی شمیم استاد تھے، جن کا 2 ماہ قبل انتقال ہو چکا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ ریلوے کی پرانی زمین ہے، جس پر کچھ لوگوں نے ناجائز قبضہ کر پہلے مزار بنائی، اور بعد میں مسجد و قبرستان کی تعمیر کی گئی۔ 2024ء میں کاشی ماڈل ریلوے اسٹیشن کا منصوبہ سامنے آیا، جس کے بعد زمین کی پیمائش کرائی گئی اور مسجد کی تعمیر ناجائز قبضہ والی زمین پر ہونے کا پتہ چلا۔ از غیب شہید مسجد کی انہدامی کارروائی سے متعلق رپورٹ "این ڈی ٹی وی" پر بھی شائع ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اس جگہ ایک ہنومان مندر بھی تھا، اسے بھی ہٹا دیا گیا ہے۔