کینال منصوبہ ختم نہ کیا گیا تو بندرگاہیں بھی بند کرسکتے ہیں، سندھ کے وکلا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
سندھ کی وکلا کا کہنا ہے کہ اگر وفاقی حکومت نے دریائے سندھ پر کینال بنانے کا فیصلہ واپس نہیں لیا تو پھر صوبے کی بندرگاہوں کو بھی بند کیا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’وزیراعظم کینالز کے معاملے پر آپ سے ملنا چاہتے ہیں‘، رانا ثنااللہ کا ایاز لطیف پلیجو کو ٹیلیفون
سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق سیکریٹری ایڈووکیٹ حسیب جمالی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے اس منصوبے کا افتتاح تو کردیا مگر عوام کے بارے میں نہیں سوچا لہٰذا فیصلہ واپس نہ لینے کی صورت میں ہم اس احتجاج کے درائرہ کار کو وسیع کریں گے اور اس حوالے سے بندرگاہوں کو بند کرنے کے معاملہ بھی زیر غور ہے۔
دریں اثنا دریائے سندھ پر کینالز بنانے کے حوالے سے سندھ سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے اور احتجاج بھی جاری ہے۔ اس حوالے سے وکلا بھی احتجاج کر رہے ہیں لیکن ان کا احتجاج بھی بکھرا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
اس حوالے سے کراچی میں ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اور کراچی بار میں ایک وکلا کنونشن کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں وکلا نے متفقہ فیصلہ کیا تھا کہ اگر کینال پراجیکٹ کو واپس نہ لیا گیا تو صوبہ سندھ کے ساتھ لگنے والا صوبہ پنجاب کا بارڈر بند کر دیا جائے گا۔ وکلا کی جانب سے مزید مطالبات بھی سامنے آئے ہیں جن میں کارپوریٹ فارمنگ، پیکا ایکٹ اور 26 ویں آئینی ترمیم کو ختم کرنا بھی شامل ہیں۔
وکلا ذرائع کے مطابق ان مطالبات کا کریڈٹ لینے کے لیے وکلا میں تقسیم دکھائی دے رہی ہے۔ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اس کا سہرا اپنے سر جبکہ کراچی بار اپنے سر باندھانا چاہ رہی ہے۔ اس کی ایک جھلک تب نظر آئی جب کراچی بار کی جانب سے پنجاب بارڈر بند کرنے سے متعلق پریس کانفرنس کا اعلان ہوا تو ہائیکورٹ بار نے اس سے قبل ہی پریس کانفرنس کرکے پنجاب بارڈر بند کرنے کا اعلان کر ڈالا لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کراچی بار ایسوسی ایشن کے اراکین ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی اعلان کردہ تاریخ سے ایک روز قبل ہی پنجاب بارڈر بند کرنے نکل پڑے۔
مزید پڑھیے: کینالز کے معاملے پر سندھ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، رانا ثنا اللہ
اس وقت دریائے سندھ پر وفاقی حکومت کی جانب سے کینال بنانے کے خلاف خیرپور ببرلو بائی پاس پر وکلا کا دھرنا جاری ہے اور اس دھرنے کے ساتھ سندھ بھر میں عدالتی امور معطل ہیں۔ ساتھ ہی کراچی بار کے وکلا وقتاً فوقتاً سٹی کورٹ کراچی سے منسلک ایم اے جناح روڈ پر احتجاج بھی کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
ایڈووکیٹ حسیب جمالی کا کہنا ہے کہ ایک ریکارڈ کے مطابق سندھ کو وفاقی حکومت اس کے حصے کا پانی نہیں دے پائی۔
حسیب جمالی کے مطابق صوبہ سندھ کو اس وقت پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے جس کا عملی مظاہرہ ہم کراچی میں بھاری قیمت پر ٹینکر خرید پر مجبور ہیں اور اگر ایسی صورتحال میں کینال بنا کر 2 لاکھ ایکڑ کو سیراب کرنے کی کوشش کی گئی تو سندھ کے لوگ پانی سے محروم ہوجائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق بدین، ٹھٹھہ اور سجاول وہ ضلع ہیں جہاں اگلے 12 برس میں زمین کاشت کاری کے قابل نہیں رہے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہی کئی ایکڑ پر زمینیں سیم و تھور کا شکار ہیں جن پر حکومت کاشت کاری نہیں کرسکتی ایسی صورتحال میں کینال بنانا سندھ کے عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔
صدر کراچی بار ایسوسی ایشن عامر نواز وڑائچ ایڈووکیٹ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ 6 کینالز کی تعمیر کے خلاف سندھ کے عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے لیکن پھر بھی کینالز پر کام کام جاری ہے۔
مزید پڑھیں: دریائے سندھ سے کینالز نکالنے کے معاملے پر غلط فہمیاں دور کی جائیں گی، اسحاق ڈار
انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے کراچی بھی پانی کو ترسے گا، 6 ہزار والا کنٹینر 30 ہزار میں بھی نہیں ملے گا، ہمارا کام ہے پورے صوبے کے عوام کے حقوق کا تحفظ کریں، اس دوران ہمیں دھمکیاں ملیں، حملے ہوئے مگر ہم کھڑے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سندھ کی بندرگاہیں سندھ کے وکلا سندھ میں احتجاج کینال کینال کا معاملہ نہروں کا معاملہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سندھ کی بندرگاہیں سندھ کے وکلا کینال کینال کا معاملہ نہروں کا معاملہ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن دریائے سندھ وفاقی حکومت اس حوالے سے کراچی بار کے مطابق کے ساتھ سندھ کے
پڑھیں:
معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں بھارت میں ہونے والے احتجاج میں شامل ایک بھارتی طالبہ اپنی ہی حکومت کے مؤقف پر سوالات اٹھاتے ہوئے سخت تنقید کرتی نظر آ رہی ہے۔ ویڈیو میں طالبہ کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بھارتی رافیل طیارے گرائے اور بھارتی فوجیوں کو بھی مارا ہے تاہم اس وقت بھارتی حکومت نے ان تمام دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔
Array koi baat nahi it's ok pic.twitter.com/ZwimtIcx4a
— iffi (@iffiViews) July 22, 2026
طالبہ ویڈیو میں کہتی ہے کہ اب اگر ایک سال بعد حکومت خود یہ تسلیم کر رہی ہے کہ اس دوران چھ بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے تو اس سے عالمی سطح پر یہی تاثر جائے گا کہ پاکستان کے دعوے درست تھے۔ اس صورتحال نے بھارتی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے آخر میں وہ یہ بھی کہتی ہے کہ اس کے بعد پاکستان کے سامنے بھی ہماری عزت نہیں رہی۔
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے شیئر کی جا رہی ہے جہاں صارفین اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دیگر دعوے بھی درست تھے جبکہ کچھ صارفین نے بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے حقائق چھپانے اور متضاد بیانات دینے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین آرمی بھارتی طیارے پاک آرمی پاک فوج پاکستانی فوج رافیل ویڈیو وائرل