پی ایس ایل 10: ملتان سلطانز کا لاہور قلندر کیخلاف ٹاس جیت پر بیٹنگ کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 10 میں ملتان سلطانز نے لاہور قلندرز کے خلاف ٹاس جیت بیٹنگ کا فیصلہ کیا ہے۔
دونوں ٹیمیں ایونٹ کے 12 ویں میچ میں ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں مدِ مقابل ہیں۔
واضح رہے ملتان سلطانز پوائنٹس ٹیبل پر آخری پوزیشن پر ہے اور اس کو اپنے تینوں میچز میں شکست کا سامنا رہا ہے جبکہ لاہور قلندرز تین میں سے دو میچز جیتنے کے بعد تیسرے نمبر پر موجود ہے۔
اسکواڈ:
ملتان سلطانز: محمد رضوان (کپتان، وکٹ کیپر)، یاسر خان، عثمان خان، کامران غلام، مائیکل بریسویل، افتخار احمد، ایشٹن ٹرنر، ڈیوڈ ولی، اسامہ میر، عبید شاہ، جوشوا لٹل
لاہور قلندرز: فخر زمان، محمد نعیم، عبداللہ شفیق، ڈیرل مچل، سیم بِلنگز (وکٹ کیپر)، سکندر رضا، شاہین شاہ آفریدی (کپتان)، رشاد حسین، حارث رؤف، زمان خان، آصف آفریدی
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ملتان سلطانز
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔