اسلام آباد+انقرہ (خبر نگار خصوصی+نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم شہباز شریف نے ترک صدر رجب طیب اردگان سے صدارتی محل میں ملاقات کی جس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے صدر اردگان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کو ترکیہ آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ باہمی رابطے مضبوط دوستی کی علامت ہیں۔ پاکستان دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے۔ عالمی  امور پر دونوں ممالک میں ہم آہنگی ہے۔ دفاعی شعبے میں مشترکہ منصوبے شروع کرنا چاہتے ہیں۔ ہر قسم کی دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔ دونوں ملک آزاد، خود مختار فلسطینی ریاست کی حمایت کرتے ہیں۔ غزہ میں ہونے والی بربریت کی پاکستان نے بھر پور مذمت کی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا ساتھ جاری رہے گا۔ شہباز شریف نے کہا کہ شاندار استقبال پر صدر رجب طیب اردگان کا شکر گزار ہوں۔ ترک صدر سے ملاقات پر خوشی ہوئی۔ رجب طیب اردگان کی قیادت میں ترکیہ نے مثالی ترقی کی۔ وہ ایک دور اندیش اور ویژنری لیڈر ہیں۔ 2022ء میں پاکستان میں سیلاب آیا تو ترک صدر نے امدادی سامان بھیجا۔ انہوں نے پاکستان کا تاریخی  دورہ کیا۔ انسداد دہشتگردی کیلئے ترکیہ کے تعاون کے مشکور ہیں۔ دونوں ملکوں نے آئی ٹی، معدنیات اور دیگر شعبوں میں تعاون پر اتفاق کیا۔ غزہ میں ہونے والی بربریت کی پاکستان نے بھرپور مذمت کی۔ یو این قراردادوں کے مطابق فلسطین کے مسئلہ کا حل چاہتے ہیں۔ فلسطینی مسلمانوں کا بہیمانہ قتل عام کیا جا رہا ہے۔ غزہ میں فوری جنگ بندی کرکے فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے۔  وزیراعظم نے کہا کہ  دہشتگردی سے نجات کیلئے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ وقت آ گیا ہے  کہ دہشتگردی کے خلاف مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ امن کیلئے اقوام عالم کو دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی بنانا ہوگی۔ مسئلہ کشمیر پر ترکیہ کی غیر متزلزل حمایت پر مشکور ہوں۔ غزہ میں 50 ہزار سے زائد نہتے فلسطینیوں کی شہادت کی مذمت کرتے ہیں۔ غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں۔علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردگان کے درمیان ملاقات کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دونوں  رہنماؤں نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان برادرانہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار  اور مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو مزید مضبوط کرنے  کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے دو طرفہ سرمایہ کاری کے ذریعے اقتصادی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے سٹرٹیجک کوآپریشن کونسل کے فیصلوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا۔ ملاقات میں علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے غزہ میں انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ فوری جنگ بندی اور متاثرہ آبادی کو انسانی امداد کی فراہمی پر زور دیا۔ صدر اردگان نے فلسطین کیلئے پاکستان کی مسلسل حمایت اور انسانی امداد کو سراہا۔ پاکستان اور ترکیہ نے سٹرٹیجک شراکت داری مضبوط بنانے کا عزم کیا۔
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی +نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ سپیس ٹیکنالوجی، سپیس سیٹلائٹ، ٹیلی کمیونیکیشنر، سیٹلائٹ انٹرنیٹ سمیت دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں۔وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چین سے تعلق رکھنے والی سپیس ٹیکنالوجی کمپنی گلیکسی سپیس کے وفد نے چیئرمین گلیکسی سپیس زو منگ کی قیادت میں ملاقات کی۔اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان سپیس ٹیکنالوجی شعبے کو انتہائی اہمیت دے رہا ہے۔ چین ہمارا انتہائی قابل اعتماد دوست اور سٹریٹجک شراکت دار ہے۔گلیکسی سپیس کے وفد نے پاکستان کی سپیس ٹیکنالوجی انڈسٹری میں سرمایہ کاری اور پاکستانی سپیس ٹیکنالوجی کے اداروں اور نجی ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے حوالے سے گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔وفد کے ارکان نے کہا کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام اور سپارکو کے حکام سے ملاقاتیں انتہائی مفید رہیں۔ وفد نے پرتپاک میزبانی پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ملاقات میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، وزیر کے مشیر ڈاکٹر توقیر شاہ اور متعلقہ سرکاری اداروں کے افسران نے شرکت کی۔علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف دو روزہ دورے پر ترکیہ پہنچ گئے ۔ترک وزیر دفاع نے وزیر اعظم کا ائیر پورٹ پر استقبال کیا۔وزیر اعظم ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگا ن کی دعوت پر تر کیہ کا دورہ کر رہے ہیں ۔وزیر اعظم ترک سرمایہ کا روں اور کا روبا ری افراد سے ملاقاتیں بھی کرینگے۔دریں اثنا وزیر اعظم نے تر کیہ پہنچنے پر ایکس میں ایک پیغا م میں کہا ہے کہ اپنے بھائی صدر ترکیہ رجب طیب اردگا ن سے ملاقات کا منتظر ہوں۔پاک ترکیہ دیرینہ اور تاریخی تعلقات دونوں ممالک کے عوام کے دلوں پر نقش ہیں ۔دونوں ممالک امن ،ترقی اور خوشحالی کا مشترکہ ویژن رکھتے ہیں ۔پاکستان اور ترکیہ کی دوستی ہر آزمائش پر پو ری اتری ہے ۔علاوہ ازیں وزیر اعظم نے کہا ہے کہ مو سمیاتی تبدیلی کے مسائل کے حل کیلئے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی معاونت درکا ر ہے ۔شہباز شریف سے انٹر نیشنل ٹریڈ یو نین کنفیڈریشن کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات کی ۔گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے مزدوروں کے روزگار کے مسائل آئے اور نقصان اٹھانا پڑا۔وزیراعظم شہباز شریف سے آزاد جموں و کشمیر کے وفد کی ملاقات بھی ہوئی ۔جس میں وفاقی حکومت کے آزاد کشمیر کیلئے جاری ترقیاتی پروگرام پر گفتگو کی گئی ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف سپیس ٹیکنالوجی رجب طیب اردگان شہباز شریف نے سے ملاقات نے کہا کہ کرتے ہیں اور ترک

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری