ایف بی آر کا پاکستان کسٹمز کے گریڈ سولہ سے اوپر کے افسران کو مالی انعامات دینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
اسلام آباد:
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پاکستان کسٹمز سروس کے گریڈ سترہ اور اس سے اوپر کے کیڈر افسران کو ان کے عہدے(رینک)کے مطابق مالی انعامات دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایف بی آر نے کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 210 اور دفعہ 20213 کے تحت حاصل اختیارات کے تحت نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے جس کے ذریعے 26 نومبر 2012 کو جاری کردہ ایس آر او میں مزید ترمیم کی گئی ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق مذکورہ قواعد میں رول تین کے سب رول دو کے بعد ایک نیا سب رول تین شامل کیا گیا ہے جس کے تحت پاکستان کسٹمز سروس کے گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے کیڈر افسران کو مالی انعام دیا جائے گا۔
یہ انعام کارکردگی مینجمنٹ اور ایف بی آر کے منظور شدہ ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت ان کی کارکردگی کی درجہ بندی کی بنیاد پر منظور کیا جائے گا، یہ اقدام محکمے کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانے اور افسران کی حوصلہ افزائی کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔