سٹی42: پنجاب حکومت نے ٹیکس چوری کے خاتمے اور بڑے پلازوں و کمرشل پراپرٹیز مالکان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔

 ڈی جی ایکسائز نے کمرشل پراپرٹیز کی ری اسسمنٹ کا حکم دے دیا ہے۔ پنجاب بھر میں ساڑھے 7 لاکھ کمرشل پراپرٹیز مالکان ٹیکس ادا کر رہے ہیں، تاہم سالانہ پراپرٹی ٹیکس کا صرف 40 فیصد وصول ہوتا ہے۔

ایکسائز حکام کے مطابق ری اسسمنٹ کا مقصد ٹیکس چوری کی شکایات کا ازالہ کرنا ہے اور ابتدائی طور پر بڑے شہروں میں اس عمل کا آغاز کیا جائے گا۔ خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر موجودہ ٹیکس اور جائیداد کے ریکارڈ کی جانچ کی جائے گی۔

بھارتی سٹار کرکٹرICUمیں داخل، وجہ کیا بنی؟

پنجاب میں 25 لاکھ سے زائد کمرشل اور نان کمرشل ٹیکس ایبل پراپرٹیز موجود ہیں۔ رواں سال کے پہلے ساڑھے 3 ماہ میں لاہور سے 80 ہزار نئی پراپرٹیز سسٹم میں شامل کی گئی ہیں جبکہ پنجاب بھر سے 80 ہزار سے زائد نئی پراپرٹیز شامل کی گئیں۔

ایکسائز حکام نے کہا کہ ٹیکس نیٹ میں شامل نہ ہونے والے بقایا جات کی وصولی اور ٹیکس چوری کروانے والے ملازمین کے خلاف بھی سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ اگلے ماہ سے کمرشل پراپرٹیز کی ری اسسمنٹ کے لیے ٹیمیں کام شروع کر دیں گی۔

پاکستان کے تمام ائیرپورٹس کو کیش لیس بنانے کا فیصلہ

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سٹی42 کمرشل پراپرٹیز ٹیکس چوری

پڑھیں:

بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان

اسلام آباد:

نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔

ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی