وفاقی وزیرِ خزانہ کی عالمی مالیاتی اداروں اور بینکنگ وفود سے اہم ملاقاتیں
اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT
واشنگٹن:
وفاقی وزیرِ خزانہ و سینیٹر محمد اورنگزیب نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک کے اسپرنگ اجلاسوں کے موقع پر واشنگٹن ڈی سی میں عالمی مالیاتی اداروں اور بین الاقوامی بینکوں کے نمائندوں سے اہم ملاقاتیں کیں۔
وفاقی وزیرِ خزانہ نے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں سے ملاقات میں پاکستان کی معاشی صورتحال، حالیہ مالی و مانیٹری پیش رفت اور جاری اصلاحاتی اقدامات سے آگاہ کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے کی جانے والی ساختی اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، جن کے باعث بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان نے اب اسکور بورڈ پر کچھ رنز بنالیا ہے لیکن ماضی کی غلطیوں سے بچنا ہوگا، وزیرخزانہ
انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ فچ ریٹنگ ایجنسی کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری (B-) ملک کے مالیاتی استحکام کی عکاس ہے۔
ملاقات کا اختتام سوال و جواب کے سیشن پر ہوا جس میں شرکاء نے پاکستان کی اقتصادی حکمت عملی پر تفصیلی گفتگو کی۔
وفاقی وزیر نے ڈوئچے بینک کے اعلیٰ سطحی وفد سے بھی ملاقات کی، جس کی قیادت محترمہ مریم وازانی، منیجنگ ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ (MENA) کر رہی تھیں۔
ملاقات میں سینیٹر محمد اورنگزیب نے پاکستان کی بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں واپسی میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے خاص طور پر پانڈا بانڈز اور ESG بانڈز کے اجرا پر زور دیا، جو کہ پاکستان کی مستحکم معیشت اور بہتر ہوتی کریڈٹ پروفائل کے پیش نظر ممکن ہو سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بین الاقوامی وفاقی وزیر پاکستان کی
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔