سیکورٹی مسائل اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر قطری و امریکی وزرائے خارجہ کی گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT
اپنی ایک رپورٹ میں الجزیرہ کا کہنا تھا کہ قطری وزیر خارجہ نے مارکو روبیو کو اس بات کا یقین دلایا کہ ہم ایران اور امریکہ کے مابین تمام مسائل کے سفارتی حل کی مکمل حمایت کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ "مارکو روبیو" اور ان کے قطری ہم منصب "محمد بن عبد الرحمن آل ثانی" نے آپس میں ملاقات کی۔ ایک بیان جاری کرتے ہوئے امریکی وزرات خارجہ نے اس ملاقات کی تفصیلات جاری کیں۔ جس میں بتایا گیا کہ دونوں وزرائے خارجہ نے امریکہ و قطر کے مابین سلامتی، اقتصادی اور اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ غزہ، لبنان، شام اور مشرق وسطیٰ میں مسائل کا حل بھی ان رہنماوں کی گفتگو کا محور رہا۔ اس موقع پر مارکو روبیو نے افغانستان سے امریکی شہریوں کی رہائی کے سلسلے میں قطر کی کوششوں کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے خطے میں قیام امن اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے باہمی تعاون کو مزید بڑھانے پر زور دیا۔ اسی ملاقات کے حوالے سے الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ قطری وزیر خارجہ نے مارکو روبیو کو اس بات کا یقین دلایا کہ ہم ایران اور امریکہ کے مابین تمام مسائل کے سفارتی حل کی مکمل حمایت کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مارکو روبیو
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔