ایمن اور منال خان کی اشتہارات سے ہوئی پہلی کمائی کتنی تھی؟
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ جڑواں بہنیں ایمن خان اور منال خان نے اشتہارات سے ہونے والی اپنی پہلی کمائی سے متعلق انکشاف کیا ہے۔
اداکارہ ایمن اور منال خان نے حال ہی میں جیو پوڈ کاسٹ میں شرکت کی۔
اس موقع پر دونوں بہنوں نے اپنے کیریئر کے آغاز، مشہور ہونے، پراجیکٹس کرنے، شادی ہونے اور بعد ازاں بچوں کے بعد زندگی میں آنے والی تبدیلی پر کھل کر بات کی ہے۔
اداکارہ ایمن اور منال خان نے وزن کم کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں بتایا کہ ہم گھر پر ہی اپنی فٹنس کا خیال رکھتی ہیں، کوئی مخصوص ڈائٹ پلان یا فٹنس ٹرینر کو فالو نہیں کر رہیں، دن میں کم از کم 1 گھنٹہ اپنی ورزش کو دیتی ہیں اور اس دوران ہم ویڈیو کال پر ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہیں۔
ایمن خان نے ماضی کی دلچسپ یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہم بہنوں نے اسکول میں ایک دوسرے کی حاضری تک لگائی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جب ہم نے میڈیا انڈسٹری میں قدم رکھا تو معلوم نہیں تھا کہ کام کرنے کے پیسے ملتے ہیں، جب ہمیں معلوم ہوا کہ جو کام ہم کر رہے ہیں اس کا معاوضہ کوئی اور وصول کیے جا رہا ہے تو ہم نے اپنے والد کو بتایا۔
ایمن خان نے کہا کہ والد کے نوٹس لینے پر معلوم ہوا کہ جو ہمیں کام دلوا رہے تھے انہی میں سے کوئی شخص ہمارا معاوضہ خود ہڑپ کر جاتا تھا اور ہمیں کچھ نہیں ملتا تھا، بات کرنے پر ہمیں ڈائریکٹ معاوضہ ملنے لگا۔
ایمن خان کے مطابق انہیں اور منال کو ایک گھی کے اشتہار کا ملنے والا پہلا معاوضہ 30 ہزار روپے کا چیک تھا۔
اداکارہ نے بتایا کہ ہم 30 ہزار روپے حاصل کر کے بہت خوش ہوئے تھے اور والد نے یہ چیک دیکھ کر کہا تھا کہ ہم اسے خرچ نہیں کریں گے بلکہ اسے فریم کر کے اپنے پاس رکھ لیں گے۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اور منال خان ایمن خان
پڑھیں:
اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔
گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔
سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔
فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔
شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔
دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔
اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔
زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔
ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔
اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔