بھارت کا رویہ قابل مذمت، وقت کا تقاضا ہے کہ عمران خان کو رہا کیا جائے، بیرسٹر سیف
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارت کا رویہ نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے، وقت کا تقاضہ ہے کہ عمران خان کو رہا کیا جائے۔
نجی ٹی وی کے مطابق مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارت کا رویہ نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے، اس واقعے کے پیچھے مودی سرکار کے مذموم عزائم کارفرما ہیں۔
بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ مودی حکومت ایک سازش کے تحت پہلگام واقعے کو استعمال کرکے پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگا رہی ہے، مودی سرکار خطے میں امن و امان کو خراب کر کے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات قومی اتفاق و اتحاد اور سیاسی استحکام کا تقاضا کرتے ہیں، اس وقت پی ٹی آئی ملک کی مقبول ترین جماعت ہے، عمران خان کی قیادت میں پوری قوم متحد ہو سکتی ہے، وقت کا تقاضا ہے کہ بانی چیئرمین کو رہا کیا جائے اور قومی اتحاد و یگانگت کے ذریعے موجودہ صورتحال سے نمٹا جائے۔
صوبائی مشیر اطلاعات نے کہا کہ فارم 47 کی بنیاد پر قائم جعلی حکومت میں اتحاد اور یکجہتی پیدا کرنا ممکن نہیں، موجودہ وقت حقیقی عوامی مینڈیٹ کا متقاضی ہے، جعلی مینڈیٹ سے نجات ضروری ہے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔