پاکستان کی فضائی حدود انڈین جہازوں کے لئے بند، واہگہ بارڈر بند، بھارتیوں کے ویزے منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
سٹی42: پاکستان نے بھارت کی تمام ائیر لائنز کے لئے پاکستان کی فضائی حدود فوری طور پر بند کر دی ہیں۔ واہگہ بارڈر کو بھی فوری طور پر بند کر دیا گیا ہے اور سارک ویزا پر پاکستان آئے ہوئے تمام بھارتیوں کے ویزے فوری طور پر منسوخ کر دیئے ہیں۔
پاکستان نے یہ اقدام آج اسلام آباد میں مقوی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کئے گئے فیصلہ پر عملدرآمد کرتے ہوئے کیا ہے۔
پاکستان کی فضائی حدود میں آنے پر پابندی کا اطلاق تمام بھارتی ائیر لائنز اور بھارتی آپریٹڈ ائیر لائنز پر ہو گا۔
پی ایس ایل10؛ ملتان سلطانز کا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے یہ فیصلہ بھارت کی مرکزی حکومت کی جانب سے پاکستان کے خلاف بلا اشتعال، بلا جواز اقدامات کے ردعمل میں کیا ہے۔
بھارت کی بی جے پی حکومت کی کابینہ نے کل شام اچانک بلا اشتعال، بلا جواز پاکستان کے خلاف کئی اقدامات کر ڈالے جن میں واہگہ بارڈر بند کرنا، سارک ویزوں پر بھارت گئے ہوئے پاکستانیوں کے ویزے منسوخ کر دینا شامل تھا۔
پاکستان نے سارک ویزا پر پاکستان آئے ہوئے تمام انڈین شہریوں کے ویزے بھی منسوخ کر دیئے ہیں۔
زیلنسکی کا کریمیا پر روسی قبضہ ماننے سے انکار، امریکہ کے نائب صدر کا یوکرین کو الٹی میٹم
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پاکستان کی کے ویزے
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔