کانگریس نے اس موقع پر تقسیم کی سیاست کرنے پر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔ اسلام ٹائمز۔ انڈین نیشنل کانگریس نے جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کو بزدلانہ کارروائی قرار دیا ہے۔ اسے جمہوریت پر براہ راست حملہ بتاتے ہوئے کانگریس نے مودی حکومت سے دہشت گردانہ حملے کی مکمل تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔ کانگریس نے اس موقع پر تقسیم کی سیاست کرنے پر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔ جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ حملے کے تناظر میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں دہشت گرد حملے میں جاں بحق ہونے والوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ایک قرارداد منظور کی۔ اجلاس میں کانگریس پارٹی کے صدر ملکارجن کھرگے کے علاوہ سرکردہ لیڈر راہل گاندھی، سونیا گاندھی، پرینکا گاندھی اور ممبران پارلیمنٹ نے شرکت کی۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے سی ڈبلیو سی کی تفصیلات سے واقف کروایا۔

اس دوران اعلان کیا گیا کہ کانگریس کی جانب سے 25 اپریل کو ملک بھر میں شمع ریلی نکالی جائے گی۔ کانگریس لیڈروں نے "امرناتھ یاترا" کے پیش نظر ہندو عقیدتمندوں کی حفاظت پر توجہ دینے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔ کانگریس لیڈر نے بتایا کہ کانگریس کے مطالبے کو قبول کرتے ہوئے مودی حکومت نے ایک آل پارٹی میٹنگ بلائی ہے۔ اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ہم امید کرتے ہیں کہ وزیراعظم نریندر مودی بھی اس میں شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حملہ کو ہمارے اتحاد اور سلامتی پر براہ راست حملہ سمجھا جانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں، ہم نے سی ڈبلیو سی اجلاس میں حملے کے تمام پہلوؤں پر بات کی۔

دوسری جانب مودی حکومت نے جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ حملے کے تناظر میں جمعرات کو شام 6 بجے آل پارٹی اجلاس طلب کیا ہے۔ ذرائع نے انکشاف کیا کہ یہ میٹنگ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی صدارت میں پارلیمنٹ کی عمارت میں ہوگی۔ یہ اجلاس کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے دہشت گردانہ حملے پر آل پارٹی میٹنگ بلانے کے مطالبے کے تناظر میں منعقد کیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور راجناتھ سنگھ پہلے ہی اس میٹنگ کے حوالے سے مختلف پارٹیوں کے لیڈروں سے بات کرچکے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: دہشت گردانہ حملے کانگریس نے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف