پاکستان کی قیادت میں کئی ملکوں کا "آپریشن سی اسپریٹ" کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کی قیادت میں قائم کمبائنڈ ٹاسک فورس 151 (CTF 151) نے 21 اپریل سے ایک اہم اور مربوط بحری آپریشن "فوکسڈ آپریشن سی اسپریٹ" کا آغاز کر دیا ہے۔ اس آپریشن کا مقصد صومالیہ کے ساحلی علاقوں، خلیج عدن اور سوکوٹرا گیپ میں بحری قزاقی اور مسلح ڈکیتی کی روک تھام ہے۔
آپریشن میں میری ٹائم پیٹرول ایئرکرافٹ اور ہیلی کاپٹرز کی مدد سے سمندر میں گشت اور مشقیں کی جا رہی ہیں۔ اس میں کئی ممالک کی بحری افواج اور سیکیورٹی ادارے حصہ لے رہے ہیں، جن میں جاپانی میری ٹائم سیلف ڈیفنس فورس، پاک بحریہ، پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی، کوریا کی بحریہ، ہسپانوی بحریہ (EUNAVFOR آپریشن اٹلانٹا کے تحت)، جبوتی کی بحریہ اور کوسٹ گارڈ، اور ترکی کی بحری افواج شامل ہیں۔آپریشن کے دوران انسدادِ قزاقی کی مشقیں اور مشترکہ گشت جاری ہیں، تاکہ سمندری گزرگاہوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔علاقائی کوآرڈینیشن سینٹرز جیسے کہ CMF JMIC، JMICC پاکستان، DCOC کینیا، RCOC سیشلز، RMIFC مڈغاسکر، اور UKMTO دبئی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ ادارے سمندری برادری کے ساتھ حقیقی وقت کی معلومات شیئر کر رہے ہیں، تاکہ ممکنہ خطرات سے بروقت نمٹا جا سکے۔میرٹائم سیکیورٹی سینٹر عمان اور میرٹائم سیکیورٹی سینٹر انڈین اوشن بھی اس مشن میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں اور معلومات کا تبادلہ یقینی بنا رہے ہیں۔"آپریشن سی اسپریٹ" خطے میں امن، تجارت اور سمندری تحفظ کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔