پاک بھارت تنازع: ہم کراچی سے گلگت تک ہائی الرٹ رہیں گے، وزیر دفاع خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
وزیر دفاع اور مسلم لیگ ن کے قائد خواجہ آصف نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہوئے حملے کے بعد پاکستان و بھارت کے درمیان تیزی سے بدلتی صورتحال کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ بھارت کے انٹیلی جنس اہل کار ہیں جو قتل عام کر رہے ہیں، ہم کراچی سے گلگت تک ہائی الرٹ رہیں گے۔
ڈمی تنظیمیںنجی ٹیلی ویژن پر گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پہلگام حملے میں جس تنظیم کا نام لیا جا رہا ہے اسے کوئی جانتا بھی نہیں۔ پلواما اور سکھوں کے قتل میں بھی ایسی ہی ڈمی تنظیموں کے نام لیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:پانی روکنے کا فیصلہ اعلان جنگ تصور کیا جائے گا، قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ جاری
ان کا کہنا تھا کہ بھارت کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو پاکستان میں دہشتگردی کے لیے مسلح کررہا ہے تاکہ پنجاب اور سندھ سمیت پورے پاکستان میں دہشتگردی کی لہر پھیل جائے۔
بھارت ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو مسلح کررہا ہےوزیر دفاع کے مطابق مصدقہ اطلاع ملی ہے کہ بھارت کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو پاکستان میں دہشتگردی کے لیے مسلح کررہا ہے۔
علاوہ ازیں وزیردفاع خواجہ آصف نے برطانوی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دیا جائے گا، دونوں ملکوں کے درمیان تصادم کے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔
جوہری ملکوں کے درمیان کشیدگی پر فکر مند ہونا چاہیےخواجہ آصف کا کہنا تھا کہ دنیا کو دونوں جوہری ملکوں کے درمیان کشیدگی پر فکر مند ہونا چاہیے۔
بھارت کوئی غلط سوچ نہ رکھےدوسری طرف نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی نجی ٹیلیویژن چینل سے گفتگو میں کہا ہے کہ بھارت اگر کوئی ایڈونچر کرتا ہے تواس کے لیے ہماری افواج تیارہیں،بہتر ہوگا کہ بھارت کوئی غلط سوچ نہ رکھے۔
یہ بھی پڑھیں:پہلگام حملہ: مودی سرکار کی مہم ناکام، بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب!
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہم سیاسی اور سفارتی محاذ پر ہر طرح سے تیارہیں۔ہم نے بھارتی اقدامات کے جواب میں اقدامات اٹھالیے ہیں۔
’را‘ کی مداخلت کے کافی شواہد موجود ہیںانہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے سے متعلق بھارت کے پاس اگرکوئی ثبوت ہے توہمیں بھی دکھائے،ہم کھلے دل سے دیکھنے کے لیے تیار ہیں۔
اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ البتہ ہمارے پاس بلوچستان میں ’را‘ کی مداخلت کے کافی شواہد موجود ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ خواجہ ا صف کے درمیان کہ بھارت کے لیے
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔