امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر امریکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے اور ان کے آئندہ انتخابات (الیکشن 2028ء) میں حصہ لینے کے اشارے واضح ہونے لگے ہیں۔

ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ 2028 کے الیکشن میں بھی میدان میں اتر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی مذاق نہیں، بلکہ سنجیدہ سوچ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ وہ دوبارہ صدر بنیں اور ان کے بقول ایسا ممکن ہے،  البتہ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس پر بات کرنا فی الحال قبل از وقت ہو گا۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ٹرمپ کے آفیشل اسٹور پر ٹرمپ 2028 کے نعرے والی ٹوپی فروخت کے لیے پیش کر دی گئی ہے، جس کی قیمت 50 ڈالر رکھی گئی ہے۔

ابتدائی طور پر ٹوپی پر مستقبل روشن ہے، قوانین دوبارہ بنائیں لکھا گیا تھا، جسے حیران کن طور پر بعد میں تبدیل کر کے  میڈ ان امریکا بیانیہ 2028 کر دیا گیا۔

ایریک ٹرمپ،  ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹے ہیں، کو بھی یہ ٹوپی پہنے دیکھا گیا ہے، جس سے قیاس آرائیاں مزید شدت اختیار کر گئی ہیں۔

صحافیوں نے وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ سے بھی اس بارے میں سوال کیا، تاہم انہوں نے اس پر کوئی واضح جواب دینے سے گریز کیا۔

یاد رہے  کہ امریکی آئین کے مطابق کوئی بھی شخص 2بار سے زائد ملک کا صدر نہیں بن سکتا، مگر ٹرمپ کے تازہ اشاروں نے یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا کوئی قانونی گنجائش نکالی جا سکتی ہے؟ یا نکالنے کی کوشش کی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی 2017 سے 2021 تک امریکا کے صدر رہ چکے ہیں اور گزشتہ برس 2024 میں دوبارہ صدر بننے کے بعد انہوں نے آتے ہی غیر معمولی فیصلوں اور اقدامات کے ذریعے نہ صرف امریکی سیاست اور معیشت میں، بلکہ دنیا بھر میں ہلچل مچا کر رکھ دی ہے۔

ٹرمپ کے اشاروں کو دیکھتے ہوئے ماہرین کی نظریں اب 2028  کے الیکشن پر لگی ہیں کہ کیا ٹرمپ ایک بار پھر تاریخ رقم کرنے والے ہیں اور اس کے لیے وہ کیا اقدامات کریں گے، جس سے ان کی اس خواہش کی راہ ہموار ہو سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انہوں نے ٹرمپ کے

پڑھیں:

گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال

فائل فوٹو

وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی ہے۔

گلگت میں جیو نیوز سے گفتگو میں احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ ن کا گلگت بلتستان میں ترقیاتی کاموں کا ریکارڈ ہے، جس کا مقابلہ کوئی جماعت نہیں کرسکتی۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں تمام جماعتیں اور ان کے لیڈرز انتخابی عمل میں حصہ لے رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اگر کوئی جماعت یہ کہتی ہے کہ اسے حصہ نہیں لینے دیا جارہا تو وہ اپنی شکست کا بہانہ تلاش کررہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو