سعودی ایئر لائن رواں برس عازمین حج کے لیے ’ٹھنڈے احرام‘ متعارف کرائے گی
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
سعودی ایئر لائن السعودیہ نے رواں برس عازمین حج کے لیے مخصوص کپڑے سے تیارکردہ ’ٹھنڈے احرام‘ متعارف کرانے کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں، احرام کو دبئی کی ٹریول مارکیٹ میں پیش کیا جائے گا۔
ایئر لائن حکام کے مطابق احرام کی تیاری میں امریکی کمپنی کا تعاون بھی حاصل رہا، احرام کو دبئی کی عربین ٹریول مارکیٹ ’اے ٹی ایم 2025‘ میں پیش کیا جائے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی ایئرلائن کے مارکیٹنگ مینیجر عصام اخونبائی نے بتایا کہ کولڈ احرام کومخصوص ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ جسم کو ٹھنڈا رکھا جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: احرام لیتے وقت کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے اور حج کے لیے کون سا احرام اچھا ہے؟
ٹھنڈے احرام کے حوالے سے بتایا گیا کہ مذکورہ احرام کی تیاری میں استعمال کیے گئے کپڑے کی تیاری میں جدید ٹیکنالوجی سے مدد کی گئی ہے، جس کی بدولت یہ انسانی جلد کو گرمی کی تپش سے کسی حد تک محفوظ رکھنے میں مددگار ہوتی ہے۔
حکام کے مطابق مذکورہ ’کولڈ احرام‘ گرمی کی تپش کو ایک سے 2 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے باعث احرام میں ملبوس عازمین حج کو گرمی کی شدت کا احساس نسبتاً کم ہوجاتا ہے، واضح رہے کہ اس نئے ٹھنڈے احرام کا آغاز آئندہ ماہ سے کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں سعودی عرب نے حج 2025 سے قبل گرمی سے بچاؤ کی خاطر اقدامات کا ایک وسیع سیٹ متعارف کرایا ہے تاکہ لاکھوں عازمین حج کے موسم میں متوقع شدید درجہ حرارت سے محفوظ رہ سکیں۔
مزید پڑھیں: وزارت حج وعمرہ نے خواتین کے احرام سے متعلق ہدایات جاری کردیں
وزارت حج و عمرہ نے حج آگاہی مرکز کے ساتھ مل کر حجاج کرام کو زیادہ درجہ حرارت میں حفاظتی طریقوں سے آگاہ کرنے کے لیے ایک ملک گیر مہم شروع کی ہے۔
وزارت کی طرف سے جاری کردہ حفاظتی گائیڈ میں عازمین حج پر زور دیا گیا ہے کہ وہ سورج کی غیر ضروری نمائش سے گریز کریں، ہائیڈریٹ رہیں اور سایہ دار جگہوں پر آرام کریں، سورج کی روشنی کے اوقات میں چھتری اور سر ڈھانپنے کی سختی سے سفارش کی جاتی ہے۔
گرمی سے متعلق بیماریوں سے نمٹنے کے لیے، سعودی حکام نے پہلے ہی کلیدی جگہوں پر کولنگ سسٹم نافذ کردیا ہے، بشمول مسجد الحرام میں سایہ دار ریسٹ زونز، ٹھنڈے پانی کے اسٹیشنز اور نمی والے پنکھے شامل ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احرام السعودیہ امریکی کمپنی حج آگاہی مرکز درجہ حرارت سعودی ایئرلائن سعودی عرب عازمین حج وزارت حج و عمرہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: السعودیہ امریکی کمپنی حج آگاہی مرکز سعودی ایئرلائن کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔